فــاقــول: قد اسمعناک نصہ تحت القول الثالث وتصحیحہ لایمس بعدم اشتراط الھیاۃ فی الصلاۃ انما ذکرہ فی عدم الانتقاض خارج الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ نفیا لقول ابن شجاع فھو تصحیح لاحد جزئی القول الاول کقول البدائع وھو اقرب الی الصواب فانہ ایضا راجع الی ذلک التفصیل الذی ذکرہ القمی فی السجود خارج الصلاۃ کما فی الحلیۃ ۔
فاقول: ہم امام زیلعی کی پوری عبارت قول سوم کے تحت پیش کرآئے ہیں ،ان کی تصحیح کو اندرون نماز مسنون ہیات کی شرط نہ ہونے سے کوئی مس نہیں۔انہوں نے توقول ابن شجاع کی تردید کے لئے ، بیرون نماز مسنون ہیات پر ہونے کی صورت میں عدم نقض سے متعلق یہ تصحیح ذکر کی ہے (قول اول کے دو جز ہیں ایک یہ کہ اگر مسنون ہیات پر ہے تو ناقض نہیں اگرچہ بیرون نماز ہو ۔دوسرا یہ کہ مسنون ہیات کے بر خلاف ہے تو ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو ۱۲) تو یہ قول اول کے جزاول کی تصحیح ہے جیسے بدائع کی عبارت وھو اقرب الی الصواب ، (درستی سے قریب تر ہے ) کیونکہ وہ بھی اسی تفصیل کی طر ف راجع ہے جو امام قمی نے بیرون نماز سجدہ سے متعلق ذکر کی جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔
وذلک ان القول الاول یشتمل علی دعویین احدٰھما النقض عند عدم الھیاۃ ولو فی الصلاۃ وسائر الاقوال تخالفہ فی مابعد لو، والاخری عدم النقض مع الھیاۃ المسنونۃ ولو خارج الصلاۃ والقول الثالث یوافقہ فیھا اصلا ووصلا والتصحیح فیہ انما ورد علی ھذا الجزء الموافق دون المخالف ولذلک لما سبق الی ذھن العلامۃ عمر بن نجیم ان شیخہ واخاہ رحمھما اللّٰہ تعالی یدعی تصحیح الزیلعی للجزء المخالف نسبہ للسھو وعقبہ بتصحیح المحیط۔
تفصیل یہ ہے کہ قول اول دو دعووں پر مشتمل ہے ایک یہ کہ مسنون ہیات نہ ہونے کی صورت میں نیند ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو باقی تینوں قول '' اگر چہ'' کے مابعد میں قول اول کے مخالف ہیں(تینوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ نماز میں مطلقا نقض وضو نہیں اگر چہ مسنون ہیات نہ ہو ۱۲) دوسرا دعوی یہ ہے کہ مسنون ہیات ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اگر چہ بیرون نماز ہو قول سوم اس دعوے میں اصل اور وصل ( بشرط ہیات وضو نہ ٹوٹنا اور اگر چہ بیرون نماز) دونوں امر میں قول اول کے موافق ہے اورقول سوم کے اندر تصحیح اسی جز و موافق پر وارد ہے جز ومخالف پرنہیں ، یہی وجہ ہے کہ جب علامہ عمر بن نجیم صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی کا ذہن اس طر ف چلاگیا کہ ان کے شیخ اور بر ادر صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی جز و مخالف میں تصحیح زیلعی کے مدعی ہیں تو اسے صاحب بحر کا سہو قرار دیا اور اس کے بعد محیط کی تصحیح پیش کی ۔
قــال ط قال فی النھر مافی البحر من تصحیح الزیلعی لھذا فھو سہوبل فی عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء نوم الساجد فی الصّلاۃ اذا کان علی الہیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح ۱؎ اھ
طحطاوی صاحب نہرسے ناقل ہیں ، وہ فر ماتے ہیں ''بحر میں اس پر جو تصحیح زیلعی مذکور ہے وہ سہو ہے بلکہ عقد الفرائد میں ہے کہ اندرون نمازسجدہ کرنے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیات پر ہو ۔ یہ قید محیط میں بیان کی ہے اور یہی صحیح ہے اھ
ثــم رأیت العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق حاول جواب النھر فنحانحو مانحوت ثم زلت قدم القلم حیث قال قول الشارح وصرح الزیلعی بانہ الاصح الضمیر المنصوب فیہ یعود الی قولہ وان کان خارجہا فکذلک الا فی السجود ۲؎ الخ
پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں صاحب نہر کا جواب دینا چاہا تو اسی راہ پر چلے جس پر میں چلا پھر قلم لغزش کھاگیا ان کی پوری عبارت ( ہلالین میں نقد وتبصرہ کے ساتھ۱۲) ملاحظہ ہو فرماتے ہیں :شارح کے الفاظ اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ وہی اصح ہے اس میں ضمیر ان کے قول
''وان کان خارجھا فکذلک الا فی السجود الخ''
( اگر بیرون نماز ہو تو بھی ایسا ہی ہے مگر سجدہ میں اس کے لئے مسنون ہیات پر ہونا شرط ہے)کی طرف راجع ہے۔
(۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۸)
(فـہـذا نحوما ذکرتہ ان التصحیح منسحب علی عدم النقض خارج الصلاۃ ایضا اذا کان علی ھیاۃ سنۃ ثم قال) خلاف مایوھمہ ظاھر العبارۃ من انہ راجع الی قولہ وھذا ھو القیاس اذھو اقرب ۱؎۔
( یہ وہی بات ہے جو میں نے بتائی کہ تصحیح اس پر منحصر ہے کہ بیرون نماز بھی ناقض نہیں جب کہ بطریق سنت ہو آگے لکھتے ہیں) بخلاف اس کے جس کاظاہر عبارت سے وہم ہوتا ہے کہ وہ تصحیح ان کے قول وھذا ھوالقیاس نماز میں بھی قیاس یہی ہے کہ ہیات کی شرط ہو مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترک کردیا ایسا ہی بدائع میں ہے ، کی طرف راجع ہے اس لئے کہ یہ مرجع قریب تر ہے ۔
(۱؎منحۃ الخالق علی البحر الرائق،کتاب الطہارۃ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،۱/ ۳۸ )
اقــول لاھوفــ۱متبادر من العبارۃ ولا ھوفــ۲ـ مفہوم النہر ولا ھوفـــ۳ اقرب بل الاقرب قولہ الا اناترکناہ فیہا بالنص وھذا مافھم فی النھر ولذا عارضہ بتصحیح المحیط قال فی المنحۃ) والاحسن ارجاعہ الٰی قولہ کذافی البدائع لان مافی البدائع من التفصیل ھو ماذکرہ الزیلعی ۲؎۔
اقول نہ یہ عبارت سے متبادر ہے ، نہ ہی یہ نہر کا مفہوم ہے اور نہ ہی یہ اقر ب ہے ، بلکہ اقرب تو ان کا یہ قول ہے کہ مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترک کردیا ، یہی وہ ہے جسے صاحب نہر نے سمجھ لیا او راس کے معارضہ میں محیط کی تصحیح پیش کی ، آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں'' اور بہتر یہ ہے کہ ضمیران کے قول'' کذا فی البدائع ، ایسا ہی بدائع میں ہے '' کی طرف راجع ہو، اس لئے کہ بدائع میں جو تفصیل ہے وہی امام زیلعی نے ذکر کی ہے ۔
(۲؎منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۸)
ف۱: معروضۃ علی العلامۃ ش فی المنحۃ ف۲: معروضۃ اخری علیہ ف۳: معرو ضۃ ثالثۃ علیہ
(اقــول الذی حط فـــ۴ علیہ کلام البدائع التفصیل خارج الصلاۃ والاطلاق فی الصلٰوۃ فاذ ارجع الضمیر الی قولہ کذا فی البدائع یوھم ایہاما جلیا ان کل ھذا التفصیل والاطلاق صححہ الزیلعی وحینئذ یردا یراد النھر بحیث لامردلہ فان التصحیح انما ذکرہ الزیلعی فی التفصیل دون الاطلاق فھو تسلیم للایراد لا دفعہ وقد وقع فـــ۵ ھذا الایہام بابین وجہ فی کلامکم حیث ذکرتم کلام البدائع ثم قلتم وصحح الزیلعی مافی البدائع فلولا ان ذکرتم ثم نص الزیلعی لاستحکم الایہام ورسخ فی ذھن من لم یراجع التبیین قال فی المنحۃ) ومما یؤید ان الضمیر لیس راجعا الی ماھو القیاس قولہ الاٰتی مقتضی الاصح المتقدم الخ وبہ سقط نسبۃ السہو الی المؤلف التی ذکرھا فی النھر ۱؎ اھ
اقول: کلام بدائع کا موردبیرون نمازتفصیل اوراندرون نماز اطلاق پر ہے۔ تو جب ضمیر کذا فی البدائع کی طرف راجع ہوگی تو اس سے عیاں طور پر یہ وہم پیداہوگا کہ امام زیلعی نے اس تفصیل اورا طلاق سب کی تصحیح فرمائی ہے ایسی صورت میں صاحب نہر کا اعتراف اور زیادہ قوی ہوجائے گا جس کا کوئی جواب نہ ہوگا اس لئے کہ امام زیلعی نے تصحیح صرف تفصیل سے متعلق ذکر کی ہے اطلاق سے متعلق نہیں تو یہ مان کر آپ نے صاحب نہر کا جواب نہ دیا بلکہ ان کا اعتراض تسلیم کرلیا ، اور یہ ایہام آپ کی عبارت میں بہت واضح طور سے واقع ہے اس لئے کہ آپ نے پہلے بدائع کا کلام ذکر کیا پھر فرمایا کہ
'' وصحح الزیلعی مافی البدائع ''
اور امام زیلعی نے اس کی تصحیح فرمائی ہے جو بدائع میں ہے اگر وہاں آپ نے امام زیلعی کی اصل عبارت نہ ذکر کر دی ہوتی تو یہ ایہام مستحکم اور اس کے ذہن میں راسخ ہوجاتا جس نے خود تبین الحقائق ( للامام الزیلعی) کی مراجعت نہ کی ہو آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں ) ماھو القیاس کی طر ف راجع نہ ہونے کی تائید ان کی اگلی عبارت مقتضی الاصح المتقدم الخ سے بھی ہوتی ہے اور اسی سے مولف کی جانب اس سہوکا انتساب ساقط ہوجاتا ہے جو نہر میں ذکر کیا ہے اھ
فـــ۴: معروضۃ رابعۃ علیہ ۔ فـــ۵: معروضۃ خامسۃ علیہ
(۱؎منحۃ الخالق علی البحر الرائق،کتاب الطہارۃ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/ ۳۸)