Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
110 - 123
والـعـلامـۃ ابن کمال لما مشی علی ظاھر الروایۃ المعتمدۃ ان الاستناد الی مالوازیل لسقط ایضا لاینقض الا بمزایلۃ المقعد اقتصر علی لفظ المتکی فحسب والکنز اقام مقامہ المتورک ومحصلہما واحدا وبدأ بالمضطجع تبرکا بالمنصوص وترک المستند الخ تعویلا علی المذھب فھذہ منازعھم رحمہم اللّٰہ تعالٰی فی اختلاف عباراتھم وانما مقصودھم جمیعا ھو النوم المزیل للمسکۃ فکما ان الحدیث حصر الحکم فی المضطجع ولیس معناہ القصر علی من نام علی جنبہ فالنائم علی وجہہ وقفاہ مثلہ قطعا وانما المقصود التنبیہ علی صورۃ زوال المسکۃ کما دل علیہ قول صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ۱؎ فکذلک ھولاء الکرام اقتفاء بالحدیث کما ارشد الیہ البحر والنھر۔
اور علامہ ابن کمال پاشا چونکہ ظاہر روایت معتمدہ پر گام زن ہیں کہ ایسی چیز جو ہٹادی جائے تو گر جائے اس سے ٹیک لگانا بھی ناقض اسی وقت ہے جب مقعد ہٹ جائے اس لئے انہوں نے صرف لفظ متکی پر اکتفا کی اور کنزمیں اس کی جگہ لفظ متورک رکھ دیا ، حاصل دو نوں کا ایک ہی ہے ، اور کنز نے منصوص سے تبرک کے لئے مضطجع سے ابتداء کی اور مستند الخ ، الخ ترک کر دیا کیونکہ ان کا اعتماد ظاہر مذہب پر ہے تو اختلاف عبارات میں ان حضرات رحمہم اللہ تعالی کی بنیاد یں یہی ہیں مقصود سبھی حضرات کا وہ نیند ہے جو بندش ختم کردینے والی ہے جیسے حدیث ہی کو دیکھئے کہ اس میں حکم کروٹ لینے والے کے بارے میں منحصر ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ حکم اسی پر محدود رہے گا جو کروٹ پر لیٹا ہو کیونکہ چہرے کے بل اور گدی پر یعنی چت لیٹنے والے بھی قطعا اسی کے مثل ہیں ، مقصود صرف اس صورت کی رہ نمائی ہے جس میں بندش کھل جاتی ہے جیسا کہ اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کایہ ارشاد گرامی دلالت کررہاہے ، کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے ، تو حدیث پاک کی اقتداء میں ان بزرگ حضرات کی بھی روش ہے جیسا کہ بحر ونہر نے اس طر ف رہ نمائی کی ۔
 (۱؎ سنن الترمذی،ابواب الطہارت،باب ماجاء فی الوضوء من النوم ،حدیث ۷۷،دار الفکر بیروت    ۱/ ۱۳۵)
وقـسم آخـر احب الضبط فاتی بالجامع المانع وھم الاخرون وقدوتھم العلامۃ مولی خسرو فلتضلعہ من العلوم العقلیۃ ایضا تعود بالتدنق وتبعہ المولی الغزی والشرنبلالی ۔
دوسری قسم ان حضرات کی جنہوں نے ضبط اور ساری صورتوں کا احاطہ پسند کیا تو جامع مانع الفاظ لے آئے ، یہ حضرات متاخرین ہیں اور ان کے پیشوا علامہ ملا خسرو ہیں وہ چونکہ علوم عقلیہ میں بھی تبحر رکھتے ہیں اس لئے تدقیق کے عادی ہیں ، اور علامہ غزی وعلامہ شرنبلالی ان کے پس رو ہیں۔
واعلی اللّٰہ مقامات مولنا صاحب الھدایۃ فی دارالسلام فباوجز لفظۃ کشف الظلام وجلا الاوھام اذ قال بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود والرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح لان بعض الاستمساک باق اذ لو زال اسقط فلم یتم الاسترخاء ۱؎ اھ ۲؂
اور خدا صاحب ہدایہ کے درجات بلند فرمائے کہ مختصر ترین الفاظ میں انہوں نے تاریکی کا پردہ چاک کردیا اور اوہام دور کردئے ان کی عبارت یہ ہے :کہ'' بخلاف اس نیند کے جو قیام ، قعود ،رکوع او رسجود کی حالت میں ہو نماز میں بھی اور بیرون نماز بھی یہی صحیح ہے اس لئے کہ ان حالتو ں میں کچھ بندش باقی ہوتی ہے کیونکہ اگر ختم ہوجاتی تو گر پڑتا تو استر خاکامل نہ ہوا'' اھ
 (۱؎ سنن الترمذی       ابواب الطہارت     باب ماجاء فی الوضوء من النوم      حدیث ۷۷     دار الفکر بیروت     ۱/ ۱۳۵)

(۲؎ الہدایۃ      کتاب الطہارات       فصل فی نواقض الوضوء      المکتبۃالعربیہ کراچی      ۱ / ۱۰ )
فـقـد افاد ببقاء الاستمساک وبعدم السقوط ان المراد ھو السجود کالمسنون ازلولاہ بل الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ فھو السقوط عینا وای بقاء بعدہ لاستمساک کما تقدم عن الغنیۃ وصرح بان الصلاۃ وغیرھا سواء فی الحکم فان کان الاستمساک باقیالم ینقض ولو خارج الصلاۃ والانقض ولو فیھا وھذا ھو القول الاول ۔
بند ش باقی رہنے اور ساقط نہ ہونے سے افادہ فرمایا کہ مقصود وہ سجدہ ہے جو مسنون طریقے پرہو ، اسلئے کہ اگر ایسا نہ ہو بلکہ پیٹ رانوں سے ملادے اور کلائیاں بچھا دے تو یہ بعینہ ساقط ہوجانا ہے ، او راس کے بعد پھر کو ن سی بندش باقی رہ جائے گی ، جیسا کہ غنیہ کے حوالہ سے گزرا ، اور صاحب ہدایہ نے یہ تصریح فرمادی کہ نماز اور غیر نماز اس حکم میں برابر ہیں ، اگر بندش باقی ہے تو ناقض نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ، ورنہ ناقض ہے اگر چہ اندرون نماز ہو اور یہ وہی پہلا قول ہے ۔
وکذلک افصح عنہ فی الدرر حیث قال (والا) بان کان حال القیام اوالقعود اوالرکوع اوالسجود اذا رفع بطنہ عن فخذیہ وابعد عضدیہ عن جنبیہ (فلا وان تعمد فی الصّلاۃ) ۱؎ اھ وعلیہ حط کلام الامام حافظ الدین النسفی کما تقدم وحولہ تدور الحلیۃ فیما اسلفنا من نصوصھا فانہ من اولہ لاٰخرہ انما بنی الامر علی وجود نہایۃ الاسترخاء وعدمھا وختم مسائل النوم فی الصلاۃ بقولہ والعلۃ المعقولۃ زوال المسکۃ کمامر۔
اسی طرح درر شرح غرر میں بھی اس کو صاف بتایا ، اس کے الفاط یہ ہیں ،(اور اگر ایسا نہیں) اس طر ح کہ قیام یا قعود یا رکوع کی حالت ہے یاسجدہ کی حالت ہے جب کہ پیٹ رانوں سے اوپر اور بازو کروٹوں سے دور رکھے ( تو ناقض نہیں) اگرچہ نماز میں قصدا سوجائے ) اھ امام حافظ الدین نسفی کے کلام کامو ر دبھی یہی ہے جیسا کہ گزرا اسی کے گرد حلیہ کی بھی وہ عبارتیں گردش کرر ہی ہیں جو ہم سابقہ صفحات میں نقل کر آئے ہیں کیوں کہ صاحب حلیہ نے شروع سے آخرتک بنائے کار کمال استر خاموجود ومعلوم ہونے پر رکھی ہے اور اندرون نماز نیند کے مسائل کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے :اور عقلی علت بندش کا کھل جانا ہے جیسا کہ یہ عبارت گزرچکی ہے ۔
 (۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام       کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضوء      میر محمد کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۵)
الـثـالـث لہ صریح التصحیح کما اسلفنا عن المنحۃ عن النھر عن عقد الفرائد عن المحیط انہ الصحیح وعن الصغیری انہ المعتمد وقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر نقلا عن منح الغفار شرح تنویر الابصار للمصنف انہ قال فی الملتقی وشرحہ للمؤلف لاینقضہ نوم قائم اوقاعد اوراکع اوساجد علی ھیاۃ السجود المعتبرۃ شرعا فی الصلاۃ اوخارجہا علی المعتمد ۲؎ اھ
وجہ سوم، صریح تصحیح اسی قول کی ہے جیسا کہ منحۃ الخالق سے ،اس میں نہر سے ، اس میں عقد الفرائد سے ، اس میں محیط سے نقل گزری کہ '' یہی صحیح ہے'' اور صغیر ی کا حوالہ گزرا کہ '' وہی معتمد ہے'' اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں منح الغفار شرح تنویر الابصار (اورمصنف تنویر ) کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ، ملتقی اور اس کے مولف کی شرح میں ہے کہ ناقض وضو نہیں اس کی نیند جو حالت قیام میں ہو یا سجدہ کی حالت میں سجدہ کی شرعا معتبر ہیات پر ہو نماز میں یا بیرون نماز ، بر قول معتمد اھ
 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار     کتاب الطہارۃ المکتبۃ      العربیۃ کوئٹہ      ۱/ ۸۱و۸۲)
والاقــوال الباقیۃ لم ارشیئا منھا ذیل بتصحیح صریح وانما علینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم اما قول البحر المار فی القول الرابع بعد ذکرہ کلام البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح ۱؎۔
باقی اقوال میں سے کسی کے ذیل میں صریح تصحیح میں نے نہ دیکھی ۔ اور ہمارے ذمہ اسی کا تباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے اگر وہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے تو ہم ان کا اتباع کرتے ۔رہی عبارت بحر جو قول چہارم میں گزری کہ صاحب بحر نے بدائع کا کلام ذکر نے کے بعد فرمایا اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ،
 (۲؎البحر الرائق	 کتاب الطہارۃ	 ایچ ایم سعید کمپنی کراچی	 ۱/ ۳۸)
Flag Counter