الــثانیۃ: فی استخراج القول الراجح من ھذہ الاقاویل۔
افادہ ثانیہ : ان اقوال میں سے قول راجح کے استخراج کے بارے میں ۔
اقـول: القول الاول علیہ المعول وھو الصحیح ولہ الترجیح وذلک لاربعۃ وجوہ:
اقول: قول اول ہی پر اعتماد ہے وہی صحیح ہے ، اسی کو ترجیح ہے ، اور اس کی چار وجہیں ہیں۔
الاول علیہ الاکثر کما یظھر لک ممامر و یاتی والقاعدۃفــــ العمل بما علیہ الاکثر کما نقلت علیہ نصوصا کثیرۃ فی فتاوٰی۔
وجہ اول اسی پر اکثر ہیں جیسا کہ گزشتہ وآئندہ صفحات سے ظاہر ہے ، اور قاعدہ یہ ہے کہ عمل اسی پر ہو جس پر اکثر ہوں ، جیسا کہ اس پر میں اپنے فتاوی میں کثیر نصوص نقل کر چکا ہو ں،
ف: القاعدۃ العمل بما علیہ الاکثر
الــثـانی: علیہ تظافرت المتون ولیس لہا الی غیرہ رکون ولا طباقہا شأن من اعظم الشیون فانھا الموضوعۃ لنقل المذھب المصون وذلک انہا من عند اٰخرھا لم تجنح الی تفرقۃ فی ھذا بین الصلاۃ وغیرھا انما ترسل الحکم ارسالا ۔
وجہ دوم ، اسی پر متون ہم نوا ومتفق ہیں کسی اور قول کی طر ف ان کا جھکاؤ بھی نہیں اور اتفاق متون کی شان بہت عظیم ہے اس لئے کہ متون مذہب محفوظ کی نقل ہی کے لئے وضع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ شروع سے آخر تک تمام ہی متون اس بارے میں نماز اور غیر نماز کی تفریق کی طرف مائل نہیں حکم صرف بیان کرتے ہیں۔
اسی کے مثل بدایہ میں بھی ہے ، اور وقایہ میں ہے : اس کی نیند جو کروٹ لینے والا ، یا تکیہ لگانے والا ، یا ایسی چیز کی طرف ٹیک لگانے والا ہے جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے کوئی اور نیند نہیں اھ
اصلاح میں ہے تکیہ لگانے والے کی نیند اھ ملتقی الا بحر میں ہے اس کی نیند جو کروٹ لینے والے ، یا ایک سرین پر سہارا لینے والا ، یاایسی چیز کی طرف ٹیک لگانے والا ہو جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے قیام یا قعود یا رکوع یا سجود والے کی نیند نہیں اھ ۔
وفی نور الایضاح ونوم لم تتمکن فیہ المقعدۃ من الارض لانوم متمکن ولو مستندا لی شیئ لو ازیل سقط ومصل ولو راکعا اوساجدا علی جہۃ السنۃ ۳؎ اھ ملتقطا۔
نورا لایضاح میں ہے ایسی نیند جس میں مقعد کا زمین پر قرار نہ ہ ،قرار والے کی نیند نہیں اگر چہ کسی ایسی چیز کی طر ف ٹیک لگائے ہو جو ہٹادی جائے تو گر جائے اور نماز پڑھنے والے کی نیند نہیں اگر چہ وہ رکوع میں یا سنت طریقے پر سجدے میں ہو ، اھ ملتقطا۔
(۳؎ نور الایضاح فصل عشرۃ اشیاء الخ کتاب الطہارۃ مطبع علیمی لاہور ص ۹)
اقــول ومن فــــ۱ عاشر تلک العرائس النفائس اعنی المتون وعرف طرزھا فی رمزھا بالحواجب والعیون ایقن انہا انما ترمی عن قوس واحدۃ وھی ادارۃ الحکم علی ماھو المناط المحقق الثابت بالنقل والعقل اعنی زوال المسکۃ وعدم تمکن الورکین ۔
اقول جسے ان نفیس عروسوں یعنی متون ،کی رفاقت ومعاشرت میسر ہو اور چشم وابر و سے ان کے اشارہ کے انداز سے آشناہو وہ یقین کرے گا کہ یہ سب ایک ہی کمان سے نشانہ لگارہے ہیں وہ یہ کہ حکم کو اسی پر دائر رکھنا چاہتے ہیں جو تحقیقی طور پر نقل وعقل سے ثابت شدہ مدار ہے یعنی بندش کا ختم ہوجانا اور دونوں سرین کو جماؤنہ ملنا۔
وقد انقسمت فی بیان ذلک علی قسمین قسم مشوا علی عادتہم الشریفۃ من سذاجۃ البیان وعدم الدنق فی العبارات والدلالۃ بشیئ علی نظیرہ عن من عرف المناط وھم الاولون وھذا ماقال فی النھر کما نقلہ السید ابو السعود ان المراد من الاضطجاع مایوجب زوال المسکۃ بزوال المقعدۃ عن الارض ۱؎ اھ
مصنفین اس کے بیان میں دو قسموں پر منقسم ہیں ایک قسم ان حضرات کی ہے جو اپنی اسی عمدہ روش پر ہیں کہ بیان میں سادگی ہو، عبارتوں میں تدقیق کا تکلف نہ ہو ، اور ایک چیز کو ذکر کر کے آشنائے مناط کے لئے اس کی نظیر پر رہنمائی کردی جائے یہ حضرات متقدمین ہیں اسی کو نہر میں بتایا ہے جیسا کہ سید ابو السعود نے اس سے نقل کیا ہے کہ کروٹ لیٹنے سے مراد وہ نیند جس میں زمین سے مقعد الگ ہونے کی وجہ سے بندش ختم ہوجائے۔
اھ (؎ فتح المعین کتاب الطہارہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷)
(النہر الفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶)
وما قال فی البحر بعد نقلہ فروعا فیھا النقض مع عدم حقیقۃ الاضطجاع والتورک المقتصر علیہما فی الکنز وفی ھذہ المواضع التی یکون فیھا حدثا فھو بمعنی التورک فلم تخرج عن کلام المصنف ۲؎ اھ
اور یہی بحر میں بھی ہے ، اس میں پہلے چند جزئیات نقل کئے پھر فرمایا: ان سب میں وضو ٹوٹنے کا حکم ہے باوجودیکہ حقیقت اضطجاع وتورک نہیں جب کہ کنز میں ان ہی دونوں پراکتفا ہے ان مقامات میں جہاں نیند حدث ہوتی ہے وہ تو رک ( ایک سرین پر ٹیک لگا کر سونے ) کے معنی میں ہے تو یہ صورتیں کلام مصنف سے باہر نہیں اھ ۔
اقـــول وکان فــــ الامام القدوری احب التصریح بالمضطجع لورودہ خصوصا فی الحدیث المروی عن عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما بالفاظ عدیدۃ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبالمستند لمکان الخلف فیہ کما علمت وتبعہ فی الھدایۃ والملتقی والافالمتکیئ یعمھما ویعم المستلقی والمنبطح والمتورک ونظراء ھم جمیعا ولذا اقتصر علیہ فی النقایۃ وزاد الی مالو ازیل لاختیارہ ذلک القول ۔
اقول : اور امام قدوری نے کروٹ لیٹنے والے کی تصریح شاید اس لئے پسند فرمائی کہ یہ خاص طور سے اس حدیث میں وارد ہے جو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بالفاظ متعددہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالی اس کا ذکر ہوگا اور ٹیک لگانے والے کی صراحت اس لئے پسند فرمائی کہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ بیان ہوا اور ہدایہ وملتقی میں ان ہی کی پیروی کی ورنہ لفظ متکی ( تکیہ لگانے والا) ان دونوں کو شامل ہے اور چت لیٹنے والے ، چہرے کے بل لیٹنے والے سرین پر ٹیک لگانے والے ان کے امثال سب کو شامل ہے اسی لئے نقایہ میں اسی پراکتفا کی اور یہ بڑھا دیا کہ ایسی چیز کی طر ف ہو جو ہٹا دی جائے تو گر جائے کیونکہ ان کا مختار یہی قول ہے ۔
فــــ: منازع اختلاف عبارات العلماء مع قول المقصود واحدا۔