Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
108 - 123
اقول اولا: لم فـــ۱ یعتمدہ فی الفتح بل عقبہ بقولہ کذا قیل۔
اقول اولا: فتح القدیر میں اس پر اعتماد نہ کیا بلکہ اسے ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا کذا قیل (ایسا ہی کہا گیا)
فــــ۱: تطفل علی البحر
وثانیا: فـــ۲  المشار الیہ بھذا فی قولہ وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا فی عبارۃ الفتح غیرہ فی عبارۃ البحر فان البحر جعلہا کالصلبیۃ فی عدم اشتراط الھیاۃ والفتح لم یعرج علی ھذا اصلا بل اسقط من ھذا القیل الذی ھو لصاحب الخلاصۃ قولہ سواء سجد علی وجہ السنۃ او غیر السنۃ فالمشار الیہ فی قولہ ھو عدم النقض فی السجود علی ھیاۃ السنۃ ولذا قال بعد قولہ کذا قیل ردا علیہ مانصہ وقیاس ماقدمناہ من عدم الفرق بین کونہ فی الصلاۃ اوخارجہا یقتضی عدم الخلاف فی عدم الانتقاض بالنوم فیھا (ای فی سجدۃ الشکر وان کان بین الامام وصاحبیہ خلاف فی مشروعیتھا) نعم ینتقض علی مقابل الصحیح ھذا قول ابن شجاع بنقض مطلقا نقض خارج الصلوۃ اھ ۱؎ مزیدا منا مابین الاھلۃ ۔
ثانیا: عبارت ''
سجدۃ التلاوۃ فی ھذا''
 ( اس )کامشار الیہ فتح القدیر کی عبارت میں اور ہے بحر کی عبارت میں اور اس لئے کہ صاحب بحر نے سجدہ تلاوت کو ہیات کی شرط نہ ہونے کے بارے میں سجدہ نماز کی طر ح قرار دیا ہے اور صاحب فتح نے اس کا کوئی ذکر ہی نہ چھیڑابلکہ یہ قول جو صاحب خلاصہ کا ہے اس سے یہ عبارت
'' سواء سجدعلی وجہ السنۃ اوغیر السنۃ ''
 (خواہ بطور سنت سجدہ کرے یا خلاف سنت )ساقط کردی ، تو ان کو عبارت میں مشار الیہ '' ہیات سنت پر سجدہ کی صورت میں وضوکا ٹوٹنا ہے ''اسی لئے انہوں نے کذاقیل لکھنے کے بعد اس کی تردید میں یہ بھی لکھاپہلے جوہم نے ذکر کیا کہ اندرون نماز اور بیرون نماز ہونے کا کوئی فر ق نہیں اس پر قیاس کا تقاضایہ ہے کہ اس میں(یعنی سجدہ شکر میں) نیند آنے سے وضونہ ٹوٹنے میں اختلاف نہ ہو(اگر چہ اس کے مشروع ہونے سے متعلق امام اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے) ہاں اس میں سونا ناقض وضو ہے اس قول پر جو صحیح کے مقابل ہے (وہ ابن شجاع کاقول ہے کہ خارج نماز مطلقا وضو ٹوٹ جائے گا)اھ ، عبارت فتح ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
 (۱؎ فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱/ ۴۵)
فــــ۲: تطفل اخر علیہ
وانما الذی قدم ھو قولہ تحت قول الہدایۃ بخلاف النوم فی الرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح ھذا اذا نام علی ھیاۃ السجود المسنون خارج الصلاۃ بان جافی اما اذا الصق بطنہ بفخذیہ فینقض ذکرہ علی بن موسی القمی ۲؎ اھ
صاحب فتح نے جو پہلے  ذکر کیا ہے وہ یہ کہ ہدایہ کی عبارت '' بخلاف رکوع وسجود میں سونے کے نماز میں بھی اور غیر نماز میں بھی یہی صحیح ہے ''اس کے تحت انہوں نے لکھاہے ''یہ اس وقت ہے جب بیرون نماز سجدہ مسنو ن کی ہیات پر سویا ہو اس طر ح کہ پیٹ اور رانوں وغیرہ کو الگ الگ رکھا ہو اگر پیٹ کر رانوں سے ملا دیا ہو تو سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اسے علی بن موسی قمی نے ذکر کیا ہے۲؂ ''اھ
 (۲؎ فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱/ ۴۳)
فمحصل کلام الفتح عدم النقض فی السجود المشروع خارج الصلاۃ بشرط الھیاۃ ویؤمی بطرف خفی بفحوی الخطاب الی الاطلاق فی سجود الصلاۃ فمرجعہ ان کان فالی القول الثالث لا ھذا الرابع الذی اختارہ فی البحر تبعا للخلاصۃ۔
تو کلام فتح القدیر کا خلاصہ یہ ہو اکہ بیرون نماز سجدہ مشروع میں سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیئت پر ہو ، او رمضمون کلام سے خفی طو ر پر یہ ا شارہ بھی دے رہے ہیں کہ سجدہ نماز میں سونے سے مطلقا وضونہ ٹوٹے گا ، تو کلام فتح کامرجع الگ رہے تو قول سوم ہے یہ قول چہارم نہیں جسے صاحب بحر نے خلاصہ کی تبعیت میں اختیار کیا ہے ۔
بـل اقـول : ان کان الفتح انما زاد لفظۃ خارج الصّلاۃ لان کلام الامام علی بن موسی القمی انما کان فیہ ان لاروایۃ فیہ عن اصحابنا بخلاف سجود الصلاۃ فان الروایۃ فیہ مستفیضۃلاتنکر فاحب الفتح ان یاتی بکلامہ علی نحوہ فیبطل الفحوی ویلتئم مفادہ بمفاد متنہ الہدایۃ وھو القول الاول کما ستعلم ان شاء اللّٰہ تعالٰی بل ھو المراد قطعا لایجوز حمل کلامہ علی غیرہ لتصریحہ بالتفرقۃ فی سجود الصلاۃ بین المتجافی وغیرہ کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی ھذا ۔
بل اقول : ( بلکہ میں کہتا ہوں ) اگر فتح القدیر میں لفظ '' خارج الصلوۃ'' کا اضافہ اس لئے ہے کہ امام علی بن موسی قمی کا کلام اسی سے متعلق تھا کہ اس میں ہمارے اصحاب سے کوئی روایت نہیں بخلاف سجدہ نماز کے ، کہ اس میں روایت مشہور ، ناقابل انکار ہے تو صاحب فتح نے یہ چاہا کہ ان کا کلام ان ہی کے طو ر پر لائیں جب تو مضمون کلام کا مفاد باطل اور کلام فتح کا مفاد ، اپنے متن ہدایہ کے مفاد کے مطابق ہوجائے گا ، اور وہ قول اول ہے جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان شاء اللہ تعالی بلکہ قطعا یہی مراد ہے اس کلام کو کسی اور قول پر محمول کرنا رواہی نہیں ، اس لئے کہ انہو ں نے سجدہ نماز میں کروٹ جدا رکھنے اور نہ رکھنے کے درمیان فرق کیا ہے ، جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء اللہ تعالی یہ بات تمام ہوئی ۔
وفی الغنیۃ بعدما مرعنہ فی القول الثالث نقل کلام الخلاصۃ ثم قال فتخصیص اختلافھم بسجدۃ الشکر فحسب وھی غیر مسنونۃ عند ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ مع التصریح بکونہ علی وجہ السنۃ اولا دلیل علی عدم النقض اجماعا فی غیرھا سواء کان علی وجہ السنۃ اولا وکان وجہہ اطلاق لفظ ساجدا فی الحدیث فیترک بہ القیاس فیما ھو سجود شرعا فیتناول سجود الصّلاۃ والسہو والتلاوۃ وکذا الشکر عندھما ویبقی ماعداہ علی القیاس فینقض ان لم یکن علی وجہ السنۃ لتمام الاسترخاء مع عدم التمکن المقعدۃ ولاینقض ان کان علی ھیاۃ السنۃ لعدم نھایۃ الاسترخاء لا لانہ سجود داخل تحت اطلاق الحدیث واللّٰہ الموفق ۱؎ اھ
اور قول سوم میں غنیہ کی جو عبارت گزری اس کے بعد اس میں خلاصہ کی عبارت نقل کی ہے پھر لکھا ہے ، تو صرف سجدہ شکر سے متعلق ان کے اختلاف کو خاص بتانا ، سجدہ شکر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک مسنون نہیں ساتھ ہی اس بات کی صراحت ہونا کہ وہ سجدہ بطریق سنت ہو یا نہ ہوا س پر دلیل ہے کہ سجدہ شکر کے علاوہ میں اجماعا وضو نہ ٹوٹے گا خواہ بطریق سنت ہو یا نہ ہو ، غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں لفظ ''ساجدا'' مطلق آیا ہے تو اس کی وجہ سے قیاس اس میں ترک کردیا جائے گا جو سجود شرعی ہے تو یہ سجدہ نماز ، سجدہ سہو، اور سجدہ تلاوت کو شامل ہوگا ، اسی طر ح صاحبین کے نزدیک سجدہ شکر کو بھی اور ان کے ماسوا سجدہ قیاس پر باقی رہے گا تو اس میں وضو ٹوٹ جائے گا اگر بطریق سنت نہ ہو اس لئے کہ ڈھیلاپن کا مل ہوگا اور مقعد کا زمین پر استقرار بھی نہیں اور بطریق سنت ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ انتہائی ڈھیلا پن نہ ہوگا یہ وجہ نہیں کہ وہ بھی ایسا سجدہ ہے جو اطلاق حدیث کے تحت داخل ہے واللہ الموفق اھ۔
 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی،فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈیمی لاہور، ص ۱۳۹)
اقــول؛ وھذا منہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ابداء وجہ لذلک القول لااعتماد لہ الا تری انہ لما لخص شرحہ ھذا جزم بالنقض فی غیرھیاۃ السنۃ ولو فی الصلاۃ وجعلہ المعتمد واحال تمام تحقیقہ علی الشرح کما تقدم فلو ارادھنا الاعتماد لکانت الحوالۃ غیر رائجۃ بل حوالۃ علی المخالف ثم لما صنف متن الملتقی لم یلتفت ایضا الی ھذا التفصیل وتبع سائر المتون فی الاطلاق ثم لما شرح متنہ صرح ان الاطلاق ھو المعتمد کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
اقول : یہ صاحب غنیہ شیخ حلبی رحمہ اللہ تعالی نے اس قول کی ایک وجہ ظاہر کردی ہے یہ نہیں کہ ان کا اسی پر اعتماد ہے یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی اس شرح کی تلخیص کی تو اس میں اس بات پر جز م کیا کہ اگر سجدہ خلاف سنت طور پر ہے تو اس میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگر چہ نماز ہی میں ہو ، اسی کو معتمد بھی قرار دیا اور اس کی کامل تحقیق کے لئے اپنی شرح (حلیہ) کا حوالہ دیا جیسا کہ اس کی عبارت گزری تو اگر یہاں قول مذکور کی وجہ بیان کرنے سے اس پر اعتماد مراد ہو تو اس کا حوالہ نہ چل سکے گابلکہ مخالف حوالہ ہوگا پھر جب متن ملتقی تصنیف کیا اس وقت بھی اس تفصیل پر التفات نہ کیا اور ا طلاق میں دیگر متون کا اتباع کیا پھر جب اس متن کی شرح فرمائی تو تصریح بھی کردی کہ اطلاق ہی معتمد ہے ، جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء اللہ تعالی ۔
Flag Counter