Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
107 - 123
الثانی: ان کان فی الصلاۃ لاینقض اصلا وخارجہا ینقض ولو فی سجود مشروع بوجہ مسنون قدمنا نقلہ عن الخانیۃ عن الامام شمس الائمۃ الحلوانی وانہ ھو ظاھر الروایۃ عندہ ۔
قول دوم : سجدہ نماز میں سونا بالکل ناقض نہیں ، اور بیرون نماز ناقض ہے اگر چہ مسنون طریقے پر مشرو ع سجدے میں ہو ، اسے ہم خانیہ کے حوالے سے امام شمس الائمہ حلوانی سے نقل کر آئے ہیں او ریہ بھی نقل کیا ہے کہ یہی ان کے نزدیک ظاہر الروایہ ہے ۔
وقال فی المنیۃ ان نام فی الصلاۃ قائما او راکعا اوقاعدا اوساجدا فلا وضوء علیہ وان کان خارج الصلاۃ قام علی ھیاۃ الساجد ففیہ اختلاف المشائخ وظاھر المذھب انہ یکون حدثا ۱؎ اھ
اورمنیہ میں ہے اگر نماز کے اندر قیام یا رکوع یا قعود یا سجود کی حالت میں سوجائے تو اس پر وضو نہیں ، اور اگر سجدہ کرنے والے کے طریقے پر نماز کے باہر سوجائے تو اس کے بارے میں اختلاف مشائخ ہے اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹو ٹ جائے گا اھ۔
 (۱؎ منیۃ المصلی،فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، ص ۹۴و۹۵)
وقال شارحہا العلامۃ ابراھیم قال ابن الشجاع لایکون حدثافی ھذہ الاحوال فی الصلاۃ اما خارج الصلاۃ فیکون حدثا والیہ مال المصنف حتی قال ظاھر المذھب ان یکون حدثا ۲؎ اھ
منیہ کے شارح علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں : ابن شجاع نے فرمایا ان حالتوں میں اندرون نماز سونے سے وضو نہ جائے گا اور بیرون نماز ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا ، اور اسی کی طر ف مصنف بھی مائل ہوئے کہ انہوں نے فرمایا ظاہرمذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے گا
 (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ،فصل فی نواقض الوضوء، سہیل اکیڈیمی لاہور  ،ص۱۳۸ )
وفی الفتاوی السراجیۃ اذا نام فی سجدۃ التلاوۃ انتقض وضوؤہ بخلاف سجدۃ الصلاۃ ۳؎ اھ
اور فتاوی سراجیہ میں ہے :سجدہ تلاوت میں سوجائے تو وضو ٹو ٹ جائے گا بخلاف سجدہ نماز کے اھ ۔
 (۳؎ الفتاوی السراجیۃ ،کتاب الطہارۃ،باب یاینقض الوضوء نولکشور ،لکھنو ص ۳)
الثالث : لانقض فی الصلاۃ مطلقا اما خارجہا فبشرط ھیأۃ السنۃ والا نقض۔
قول سوم : نماز میں مطلقا وضو نہ ٹوٹے گا  اور بیرون نماز وضونہ ٹوٹنے کے لئے شرط ہے کہ سجدہ ہیئت سنت پر ہو  ورنہ ناقض ہے۔
قــال الامام الزیلعی فی التبیین النائم قائما او راکعا اوساجدا ان کان فی الصلاۃ لاینتقض وضوءہ لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاوضوء علی من نام قائما او راکعا او ساجدا وان کان خارج الصلاۃ فکذلک فی الصحیح ان کان علی ھیاۃ السجود بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ والا انتقض ۱؎ اھ
امام زیلعی تبیین الحقائق میں لکھتے ہیں : قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونے والا اگر نماز میں ہے تو اس کا وضو نہ ٹو ٹے گا اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : ''اس پر وضو نہیں جو قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں سوجائے ''اور اگر بیرون نماز ہے تو بر قول صحیح یہی حکم ہے بشرطیکہ سجدہ کی ہیات پر ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے ، بازو کرو ٹوں سے جداکئے ہوئے ، ورنہ وضو ٹوٹ جائے گا اھ
 (۱؎ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الطہارۃ،دار الکتب العلمیۃ بیروت ،  ۱/ ۵۲و۵۳)
وفــی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنہ ان ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان ذکر النوم علی ھیاۃ السجود فقال) ذکر غیر واحد من المشائخ فی ھذہ المسألۃ عن علی بن موسی القمی انہ قال لانص فی ذلک ولکن یظھر ان سجد علی الوجہ المسنون لایکون حدثا وان سجد علی غیر وجہ السنۃ یکون حدثا قال فی البدائع وھو اقرب الی الصواب لان فی الوجہ الاول الاستمساک باق والاستطلاق منعدم وفی الوجہ الثانی بخلافہ الا اناترکنا ھذا القیاس فی حالۃ الصلاۃ بالنص قلت وقد ذکر رضی الدین فی المحیط ھذا التفصیل نقلا عن النوادر ۲؎ اھ
حلیہ کی عبارت جو پہلے ہم نے نقل کی اس کے بعد یہ ہے یہ سب نماز کے اندر ہے اگر بیرون نماز ہو ( اس کے بعد صورتیں بیان کیں ، یہاں تک کہ ہیات سجدہ پر سونے کا ذکر کیا تو فرمایا) متعدد مشائخ نے اس مسئلہ میں علی بن موسی قمی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ، اس بارے میں کوئی نص نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اگر مسنون طریقے پر سجدہ کرے تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور اگرغیر طریق سنت پر سجدہ کرے تووضو ٹوٹ جائے گا ، بدائع میں فرمایا ، یہ صواب سے قریب تر ہے اور اس لئے کہ پہلی صورت میں بندش باقی ہے اور آزادی ( ڈھیلا پن ) معدوم ہے ، اور دوسری صورت میں اس کے بر خلاف ہے لیکن ہم نے یہ قیاس حالت نماز میں نص کی وجہ سے ترک کردیا ، میں کہتاہوں ، رضی الدین نے محیط میں یہ تفصیل نوادر سے نقل کرتے ہوئے ذکر کی ہے اھ
 (۲ ؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
وفی الغنیۃ فی مسائل النوم خارج الصلاۃ بعد ماذکر عن علی بن موسی مامر من التفصیل ھذا ھو مراد من صحح ھذا القول (ای عدم النقض بالنوم علی ھیاۃ ساجد خارج الصلاۃ) اما لوکان علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فلا شک فی النقض لوجود نھایۃ استرخاء المفاصل المذکورفی الحدیث (ثم قال بعد نقل کلام نفیس عن الکافی حاصلہ ان المراد بقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ کمال الاسترخاء فان اصلہ حاصل بنفس النوم ولو قائما) فجمیع کلام الشیخ حافظ الدین یفید ان المراد بالسجود الذی لاینتقض الوضوء بالنوم فیہ السجود الذی ھو مثل الرکوع والقیام فی عدم نہایۃ الاسترخاء وبقاء بعض التماسک وعدم السقوط واذا لم یکن السجود علی الھیاۃ المسنونۃ فقد حصل نھایۃ الاسترخاء ولم یبق بعض التماسک و وجد السقوط فالحاصل ان القاعدۃ الکلیۃ المعتمد علیہا فی النقض بالنوم وجود کمال الاسترخاء مع عدم تمکن المقعدۃ فبھذا ینبغی ان یؤخذ عندالاختلاف واشتباہ الحال الاانھم اخرجوا عن ھذہ القاعدۃ نوم الساجد علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فی الصلاۃ ۱؎ اھ مزید امنا مابین الاھلۃ۔
اور غنیہ کے اند بیرون نماز نیند کے مسائل کے تحت علی بن موسی کے حوالے سے ذکر شدہ تفصیل کے بعدلکھتے ہیں '' جس نے اس قول کو صحیح کہا اس کی یہی مراد ہے (یعنی سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا )لیکن اگر طریقہ مسنونہ کے بر خلاف ہو تو ا س میں کوئی شک نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا اس لئے کہ جوڑوں کا انتہائی ڈھیلا پڑنا جو حدیث میں مذکور ہے وہ پالیا جائے گا ( اس کے بعد کافی کے حوالے سے ایک نفیس کلام رقم کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ''انہ اذا اضطجع استر خت مفاصلہ وہ جب کروٹ سے لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے '' میں استر خاسے مراد کمال استر خا ہے یعنی ڈھیلے پڑنے کا مطلب کامل طور سے ڈھیلے پڑجانا اس لئے کہ اصل استر خا تو محض سونے ہی سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ کھڑے کھڑے ہی سوئے ) آگے لکھتے ہیں: تو شیخ حافظ الدین نسفی (صاحب کافی) کے پورے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ وہ سجدہ جس میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو انتہائی ڈھیلاپن نہ ہونے ، کچھ بندش باقی رہنے ، اور ساقط نہ ہونے میں رکوع اور قیام کی طر ح ہو ، او رسجدہ جب مسنون طریقے پر نہ ہوگا تو انتہائی ڈھیلاپن موجود ہوگا ، تھوڑی بندش بھی باقی نہ رہ جائیگی او رگر بھی جائے گا ، تو حاصل یہ نکلا کہ نیند سے وضو ٹوٹنے کے معاملے میں قاعدہ کلیہ معتمد ہ یہ ہے کہ اعضاء پورے طور سے ڈھیلے پڑجائیں اور مقعد کو استقرار بھی حاصل نہ ہو ، اختلاف اور اشتباہ حال کی صورت میں اسی قاعدے کو لینا چاہئے ، مگر حضرات علماء نے نماز کے اندر مسنون طریقہ کے خلاف سجدہ کرنے والے کی نیند کو اس قاعدے سے مستثنی کردیا ہے اھ عبارت غنیہ ہلالین کے درمیان ہمارے اضافہ کے ساتھ ختم ہوئی
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی      فصل فی نواقض الوضوء       سہیل اکیڈ یمی لاہور     ص۱۳۸و۱۳۹)
الرابع؛  کالثالث غیر الحاق کل سجود مشروع بسجود الصلاۃ فلا تشترط الھیاۃ الا فیما لیس سجودا مشروعا وقد قدمنا نص الخلاصۃ مع ایضاحہ وفی البحر الرائق قید المصنف بنوم المضطجع والمتورک لانہ لاینقض نوم القائم والقاعد والراکع والساجد مطلقا فی الصلاۃ وان کان خارجہا فکذلک الا فی السجود فانہ یشترط ان یکون علی الہیاۃ المسنونۃ لہ وھذا ھو القیاس فی الصلاۃ الا انا ترکناہ فیھا بالنص کذا فی البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا کالصلبیۃ وکذا سجدۃ الشکر عند محمد خلافا لابی حنیفۃ وکذا فی فتح القدیر ۱؎ اھ
قول چہارم: یہ بھی قول سوم ہی کی طر ح ہے ( کہ سجدہ نماز میں کسی طر ح بھی ہونیند آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز عدم نقض کے لئے ہیات سنت پر ہونا شرط ہے ) فرق یہ ہے کہ اس میں ہر سجدہ مشرو ع کو سجدہ نماز ہی کے ساتھ ملادیا ہے تو ہیات کی شرط صرف اس میں ہے جو سجدہ مشرو ع نہ ہو ، اس بارے میں خلاصہ کی عبارت مع تو ضیح کے ہم پیش کر آئے ہیں ، اور البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے '' مصنف نے قید لگائی کہ کرو ٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھنے والے کی نیند ہو ( تو وضو ٹوٹے گا) اس لئے کہ قیام ، قعود ، رکوع او رسجود والے کی نیند نماز میں مطلقا ناقض نہیں اور بیرون نماز ہو تو بھی یہی حکم ہے مگر سجدہ سے متعلق یہ شرط ہے کہ مسنون ہیات پر ہو قیاس یہ تھا کہ نماز میں بھی یہ شرط ہو مگر ہم نے نماز کے بارے میں نص کی وجہ سے قیاس ترک کردیا ۔ ایسا ہی بدائع میں ہے اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ۔ اور سجدہ تلاوت اس بارے میں سجدہ نماز کی طر ح ہے اور اسی طرح امام محمد کے نزدیک سجدہ شکر بھی ہے بخلاف امام ابو حنیفہ کے اور اسی طر ح فتح القدیر میں بھی ہے اھ ''
 (۱؎ البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱/ ۳۸)
Flag Counter