Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
106 - 123
ورأیتنی کتبت علیہ۔
میں نے دیکھا کہ رد ا لمحتار کے اس کلام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے ۔
اقول : فـ۱ اوردوا النص بلفظ لاوضوء علی من نام قائما اوقاعدا او راکعا او ساجدا کما فی الہدایۃ وغیرھا ولاقتران ھذہ الارکان تسبق الاذھان الی الصلاۃ وبہ استدل اصحابنا علی ان المراد فی اٰخر اٰیتی الحج رکوع الصلاۃ وسجودھا فلیس فیھا سجود التلاوۃ فیسری الی شمول الحدیث سجود غیر الصلاۃ نوع خفاء حتی قصر ذلک فی البدائع والتبیین وغیرھما علی الصلٰبیۃ قائلین ان النص انما ورد فی الصلاۃ کما سیاتی فاذن عدم الانتقاض بالنوم فی السجود اظھر فی الصلاۃ واشتراط الھیاۃ المسنونۃ لعدم النقض اظھر فی غیرھا لظاھر اطلاق النص فی الصلاۃ والمبالغۃ انما تکون بذکر الخفی فان فــ۲ نقیض مدخول الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
اقول: مصنفین اپنی عبارت ان الفاظ میں لائے کہ'' اس پر وضو نہیں جو قیام یا قعود یا رکوع یا سجود کی حالت میں سوجائے '' جیسا کہ ہدایہ وغیرہامیں ہے ان ارکان کے ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے ذہن نماز کی طر ف جاتا ہے اور ساتھ ہونے ہی کی بنیاد پر ہمارے اصحاب نے یہ استدلال کیا ہے کہ سورہ حج کے آخر کے دونوں آیتوں میں نماز کا رکوع وسجود مراد ہے تو ان آیتوں میں سجدہ تلاوت نہیں ، جب ارکان مذکورہ کے ایک ساتھ بیان ہونے سے ذہن نماز کی طرف چلا جاتا ہے تو غیر نماز کے سجدے کو حدیث کے شامل ہونے میں ایک طر ح کا خفا آجاتا ہے یہاں تک کہ بدائع او رتبیین وغیرہما میں صرف سجدہ نماز کے ذکر پر اکتفاء کی ہے اور کہا ہے کہ نص صرف نماز کے بارے میں وارد ہے جیسا کہ آگے آئے گا ، جب یہ صورت حال ہے تو سجدہ میں نیند آنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم نماز کے بارے میں زیادہ ظاہر ہے اور وضو نہ ٹوٹنے کے لئے ہیأت مسنونہ کی شرط لگانا غیر نماز سے متعلق زیادہ ظاہر ہے کیونکہ نماز سے متعلق تو نص کا ظاہر ی اطلاق خود ہی موجود ہے اور مبالغہ خفی کو ذکر کر کے کیا جاتا ہے اس لئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے مدخول کی نقیض حکم سے متعلق مدخول سے زیادہ اولی ہواکر تی ہے ۔( مثلا کہا جائے تم اپنے بھائی کے ساتھ انصاف کرو اگر چہ تمہارے ساتھ ناانصافی کرے ، اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے انصاف کرنے کی صورت میں انصاف کا حکم بدرجہ اولی ہوگا ۱۲م)
فــ۱:معروضۃ علی العلامۃ ش۔فــ۲:نقیض مدخول لو وان الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
فان قیل ولو فی الصلاۃ یکن مبالغۃ علی قولہ الھیاۃ المسنونۃ کما ذکرہ المحشی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لان اشتراط الھیاۃ ھوالخفی فی الصلاۃ لاعدم النقص فی السجودا مااذا قال الشارح رحمہ اللّٰہ تعالٰی ولو فی غیر الصلاۃ فالمبالغۃ علی قولہ ساجدا لاعلی قولہ الھیاۃ المسنونۃ لان اشتراط الھیاۃ فی غیر الصلاۃ امر ظاھر وانما الخفی عدم النقض لاجرم ان العلامۃ المحشی ما جعلہ مبالغۃ علی الھیاۃ لم یمکنہ تعبیرہ الا بلو فی الصلاۃ ولو لا نقلہ فی المقولۃ ولو غیر الصلاۃ کما ھو فی نسخ الدر بایدینا لظننت ان لفظۃ غیر من کلام الدر ساقطۃ من نسخۃ المحشی۔
تو اگر کہا جائے '' اگر چہ نماز میں '' تو یہ ان کے قول '' ہیات مسنونہ '' پر مبالغہ ہوگا ، جیسا کہ محشی رحمہ اللہ تعالی نے ذکر کیا ، اس لئے کہ نماز کے اندر ہیات کی شرط خفی ہے ، سجدے میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم خفی نہیں ، لیکن جب شارح نے فرمایا'' اگر چہ غیر نماز میں '' تو یہ ان کے قول ''ساجدا '' پر مبالغہ ہو ا، ہیات مسنونہ پر مبالغہ نہ ہوا ، اس لئے کہ غیر نماز میں ہیات کی شرط ہونا کھلی ہوئی بات ہے ، خفی صرف یہ حکم ہے کہ اس میں بھی وضو نہ ٹوٹے گا ، یہی وجہ ہے کہ جب علامہ محشی نے اسے ہیات پر مبالغہ قرار دے دیا تو نا چار انہیں یہ تعبیر کرنا پڑی کہ'' اگر چہ نماز میں ہو'' درمختار کے جو نسخے ہمارے پا س ہیں ان میں '' ولو فی غیر الصلوۃ''ہے اور حاشیہ لکھتے وقت علامہ شامی نے بھی اسی طرح نقل کیا '' قولہ ولو فی غیر الصلوۃ'' اگر ان کے حاشیے میں یہ نقل نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کے پاس جو نسخہ درمختار تھا اس میں لفظ '' غیر '' ساقط تھا ۔
اما التشبث بذکر اعتماد الحلبی وانما اعتمد تعمیم اشتراط الھیاۃ سجود الصلاۃ ایضا۔
اب رہا علامہ شامی کااپنی تقریر کی تائید میں اعتماد حلبی کا تذکرہ، او ریہ کہ انہوں نے اسی پر اعتماد کیا ہے کہ وضو نہ ٹوٹنے کے لئے ہیات مسنونہ کی شرط میں سجدہ نماز بھی شامل ہے
فـاقـول لعلہ فــ لایتعین ھذا الاعتماد مرادا فانہ ذکر فی الغنیۃ قول ابن شجاع ان النوم ساجدا فی غیر الصلٰوۃ ناقض مطلقا ثم نقل عن الخلاصۃ والکفایۃ ان فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ وعن الہدایۃ انہ الصحیح ثم عن القمی التفصیل بالنقض ان کان علی غیر ھیاۃ السنۃ وعدمہ ان کان علیہا ثم حقق ان المناط وجود نہایۃ الاسترخاء وان القاعدۃ الکلیۃ المعتمدۃ کما سیجیئ ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
فاقول شارح کی مراد بھی یہی اعتماد ہے یہ متعین نہیں ، اس لے کہ شیخ حلبی نے غنیہ میں پہلے ابن شجاع کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ '' غیر نماز میں بحالت سجدہ سونا مطلقا ناقض ہے '' پھر خلاصہ اور کفایہ سےنقل کیا ہے کہ ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کا کوئی فر ق نہیں ۔ اور ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ یہی صحیح ہے پھر علامہ قمی سے یہ تفصیل نقل کی ہے کہ '' اگر خلاف سنت طریقہ پر ہو تو وضو ٹو ٹ جائے گا اور بطریق سنت ہو تو نہ ٹوٹے گا'' پھر یہ تحقیق فرمائی ہے کہ مداراس پر ہے کہ انتہائی حد تک اعضاء ڈھیلے پڑجانے کی صورت پائی جائے اور معتمد قاعدہ کلیہ بیان کیاہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالی آئے گا ۔
فــ: معروضۃ اخری علیہ۔
فافادان السجود علی ھیاۃ السنۃ غیر ناقض ولو خارج الصلاۃ وانہ المعتمد فصح العزومن ھذا الوجہ ایضا وحینئذ یکون کلام الشارح رحمہ اللّٰہ تعالٰی ساکتا عن حکم الساجد فی الصلاۃ علی غیر ھیاۃ السنۃ۔
تو انہوں نے یہ افادہ کیا کہ مسنون طریقہ پر سجدہ ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو اور یہ کہ یہی معتمد ہے تو اس طر ح بھی ان کی جانب شارح کا انتساب اور ان کا حوالہ صحیح ہوگیا اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ اندرون نماز کا سجدہ اگر غیر مسنون طریقہ پر ہوا اور اس میں سوجائے تو کیا حکم ہے ؟ وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟ اس کے ذکر سے شارح کا کلام ( ہماری تقریر کے مطابق) ساکت ٹھہر ے گا ۔
فان قلت مدخول الوصلیۃ ونقیضہ یشترکان فی الحکم وان کان النقیض اولی بہ فیکون ھذا قیدا فی الصلاۃ ایضا۔
اگر یہ کہئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کا مدخول اور اس کی نقیض دونوں ہی حکم میں شریک ہوتے ہیں اگرچہ نقیض حکم کے معاملہ میں اولی ہوتی ہے تو یہ قید نماز میں بھی ہوگی ( اور شارح کے کلام کا مطلب یہ ہوگا کہ نماز میں بھی عدم نقض کے لئے طریقہ مسنونہ کی شرط ہے )
قلت کلاّ وانما یفید ان الحکم بھذا القید یعم الصورتین ومفہومہ نفی العموم بغیر ھذا ماعموم النفی بدونہ فلا وذلک ان الواو فی الوصلیۃ کانھا عاطفۃ حذف المعطوف علیہ لظہورہ فقولہ تعالٰی یؤثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ کانہ قیل یوثرون ولو کان بھم خصاصۃ کما بینتہ فی المعتمد المستند شرح المعتقد المنتقد ۔
تو میں کہوں گا : ایسا نہیں اس کا مفادصرف یہ ہے کہ اس قید کے ساتھ ( عدم نقض کا)حکم ( نماز وغیر نماز) دونوں صورتوں کو عام ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس قید کے بغیر '' عدم نقض''کا حکم دونوں کو عام نہیں ، یہ مفہوم نہیں ہوسکتا کہ اس قید کے بغیر '' نقض ''کا حکم دونوں کو عام ہے وجہ یہ ہے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے ساتھ '' واؤ'' گویا عاطفہ ہوتا ہے جس کا معطوف علیہ ظاہر ہونے کے باعث حذف کردیا جاتا ہے ، تو ارشاد باری تعالی یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ کا معنی یہ ہے کہ گویا فرمایا گیا یوثرون لولم تکن بھم خصاصۃ ولوکان بھم خصاصۃ اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں ، اگر انہیں سخت محتاجی نہ ہو '' او راگر انہیں سخت محتاجی ہو تو بھی جیساکہ میں نے اسے المعتقد المنتقد کی شرح المعتمد المستند میں بیان کیا ہے ۔
فالمعنی لاینقض النوم ساجدا علی الھیاۃ المسنونۃ لافی الصلاۃ ولا فی غیرھا ولا کذلک النوم علی غیر الھیاۃ ای فانہ ینقض فی احدھما دون الاٰخر اوفیہما معاً کل محتمل۔
اب عبارت شارح کا معنی یہ ہوگا کہ مسنون ہیات پر سجدے کی حالت میں سوجانا ناقض وضو نہیں ، نہ نماز میں اور نہ غیر نماز میں اور مسنون طریقے کے خلاف سونے کا یہ حکم نہیں ''یعنی وہ ناقض ہے صرف ایک میں دوسرے میں نہیں ، یا دونوں ہی میں ناقض ہے ، ہر ایک کا احتمال ہے ۔
وبعد اللتیا والتی لوقال الشارح ساجدا ولوفی غیر الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا لکان اظھر وازھر ولاتی بالمبالغتین معاواللّٰہ تعالٰی اعلم بمراد عبادہ وسیستبین لک تحقیق ھذا القول المنیران شاء المولی القدیر سبحنہ وتعالٰی عن ندید ونظیر۔
اس بحث وتمحیص کے بعد عرض ہے کہ اگر شارح یوں فرماتے
  ''ساجدا ولو فی غیر الصلوۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا ''،
ناقض نہیں حالت سجدہ میں سونا اگر چہ غیر نماز میں ہو ، بشرطیکہ مسنون ہیات پر ہو اگر چہ اندرون نماز ہو '' تو زیادہ واضح اور رو شن ہوتا اور دونوں ہی مبالغے حاصل ہوجاتے ( یعنی حالت سجدہ میں سونے سے غیر نماز میں بھی وضو نہیں ٹوٹتا مگر شرط یہ ہے کہ مسنون طریقے پر ہو اور یہ شرط نماز میں بھی ہے تو اگر غیر مسنون طریقے پر سجدہ نماز کی حالت میں بھی سوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ۱۲م) اور خدائے بر تر ہی کو اپنے بندوں کی مراد کا خوب علم ہے آپ کے سامنے اس روشن کلام کی تحقیق آگے واضح ہوگی اگر رب قدیر کی مشیت ہوئی اسے پاکی ہے اور وہ ہر مقابل ونظیر سے بر تر ہے ۔
Flag Counter