Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
105 - 123
وھو الذی عولنا علیہ وقدمنا نقلہ عن مراقی الفلاح والمحیط وعقد الفرائد وشرح المنیۃ الصغیر وفی مجمع الانھر لانوم ساجد فی الصلاہ اوخارجہا علی الصحیح عندنا وفی المحیط انما لاینقض نوم الساجد اذا کان رافعا بطنہ من فخذیہ جافیا عضدیہ عن جنبیہ وان ملتصقا بفخذیہ معتمدا علی ذراعیہ فعلیہ الوضوء ۱؎ اھ
یہی وہ قول ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا ور اسی کو ۱؎مراقی الفلاح ۲؎ محیط ۳؎ عقد الفرائد اور ۴؎منیہ کی شرح صغیر سے ہم نے پہلے نقل کیا، اور ۵؎ مجمع الانہر میں ہے : ناقض وضو نہیں سجدہ کرنے والے کی نیند ، نماز میں ہو یابیرون نما ز، اس قول پر جو ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ اور محیط میں ہے سجدہ کرنیوالے کی نیند ناقض اس صورت میں نہیں جب پیٹ ران سے اٹھائے ہوئے بازو کر وٹو ں سے جدا کئے ہو ۔ اور اگر رانوں سے چپکا ہوا، کلائیوں کے سہارے پر رکا ہوا ہوتو اس پر وضو ہے اھ ۔
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر،کتاب الطہارۃ ،دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱ /۲۱)
وقال العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الہدایۃ قولہ بخلاف النوم حالۃ القیام  والقعود و الرکوع والسجود فی الصلاۃ یعنی اذاکان علی ھیاۃ سجود الصلاۃ من تجافی البطن عن الفخذین وعدم افتراش الذر اعین اما اذا کان بخلافہ فینقض ۲؎ اھ
علامہ اکمل الدین با بر تی عنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں ، عبارت ہدایہ ، بخلاف قیام ، قعود ،رکوع اور نماز میں سجدہ کی حالت پر سونے کے ( کہ یہ ناقض نہیں) مراد یہ ہے کہ جب سجدہ نماز کی ہیات پر سویا ہو کہ پیٹ رانوں سے الگ ہو اور کلائیاں بچھی نہ ہو ں لیکن جب اس کے بر خلاف ہو تو ناقض ہے اھ۔
 (۲؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر ،کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ /۴۳)
وفی الرحمانیۃ عن العتابیۃ وعن اصحابنا ان النوم فی السجود انما لایفسد اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ ۳؎ اھ ۔
رحمانیہ میں عتابیہ سے نقل ہے :اور ہمارے اصحاب سے منقول ہے کہ سجدہ میں سونا صرف اس صورت میں مفسد نہیں جب مسنون ہیات پر ہو اھ۔
 (۳؎ الرحمانیہ )
وفی المعراجیہ کما نقل عنہا فی ذخیرۃ العقبی مانصہ عن الامام الثانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ لوتعمد النوم فی السجود ینقض والافلالان القیاس ان یکون ناقضا الا انا استحسناہ فی غیر العمد لان من یکثر الصلاۃ باللیل لایمکنہ الاحتراز عن النوم فیہ فاذا تعمد بقی علی اصل القیاس ۔
معراجیہ کی عبارت جیسا کہ اس سے ذخیرۃ العقبی میں نقل کیا ہے یہ ہے: امام ثانی رحمۃ اللہ تعالی سے روایت ہے کہ اگر سجدہ میں قصدا سوئے تو ناقض ہے ورنہ نہیں اس لئے کہ قیاس یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے مگر بلاقصد نیند آنے کی صورت میں ہم نے استحسان سے کام لیا کیونکہ رات میں بکثرت نماز پڑھنے والے کے لئے نیند آنے سے بچنا ممکن نہیں پھر جب قصد سوائے تو حکم اصل قیاس پر باقی رہے گا
وجہ ظاھر الروایۃ ماروی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال اذا نام العبد فی سجودہ یباھی اللّٰہ تعالٰی بہ ملٰئکتہ فیقول انظروا الی عبدی روحہ عندی وجسدہ فی طاعتی وانما یکون جسدہ فیھا اذا بقی وضوء ہ وجعل ھذا الحدیث فی الاسرارعــہ من المشاھیر ولان الاستمساک باق فانہ لوزال لزال علی احد شقیہ ۱؎ اھ
ظاہر الروایہ کی دلیل وہ ہے جو حدیث میں وارد ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب بندہ سجدے میں سوجاتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ا پنے فرشتوں سے مفاخر ت کرتے ہوئے فرماتا ہے ، میرے بندے کو دیکھو اس کی رو ح میرے پاس ہے اور اس کا جسم میری طاعت میں ہے اس کا جسم طاعت میں اسی وقت ہوگا جب اس کا وضو بر قرار ہو ۔اس حدیث کو اسرار میں مشاہیر سے قرار دیا اوریہ وجہ بھی ہے کہ بندش باقی ہے اس لئے کہ یہ اگرختم ہوجاتی تو وہ ایک طر ف گر جاتا اھ۔
 (عــہ)اخرج معناہ البیہقی عن انس والدار قطنی عن ابی ھریرۃ وابن شاھین عنہ وعن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم کلہم عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (م) 

اس کے ہم معنی بیہقی نے انس سے دارقطنی نے ابو ہریرہ سے ابن شاہین نے حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہم اوریہ سب حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روای ہیں۔ (ت)
 (۱؎ ذخیرۃ العقبی    کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضوء      نولکشور کانپور (ہند)    ۱ /۲۵ )
وقــال اعنی العلامۃ یوسف چلپی قبلہ کان یختلج فی خلدی من عنفوان الشباب الی بلوغ درجۃ مطالعۃ معتبرات ھذا الفن ا ن النوم ساجدا ھو النوم مکبا علی الوجہ فما وجہ عدہ غیر ناقض مع وجود کمال الاسترخاء فیہ ثم دفعتہ بحملہ علی وضع سجدۃ الصلٰوۃ من تجافی البطن عن الفخذ وعدم افتراش الذر اعین کما ھو الظاھر من قولہ ساجدا۔
علامہ یوسف چلپی فرماتے ہیں:، اس سے قبل میرے دل میں آغاز شباب سے اس فن کی معتبر کتا بوں کے مطالعہ کے درجہ کو پہنچنے تک یہ خلجان رہتا کہ سجدہ کی حالت میں سونا تو یہی ہے کہ منہ کے بل اوندا سوئے پھر اسے غیر نا قض شمار کرنے کی کیا وجہ ہے جب کہ اس میں اعضا پورے طور سے ڈھیلے پڑجاتے ہیں ۔ پھر اس خلجان کو میں نے یوں دفع کیا کہ مطلب یہ ہے کہ سجدہ نماز کی حالت پر سوئے اس طر ح کہ پیٹ ران سے الگ ہوکلائیاں بچھی ہوئی نہ ہوں جیسا کہ لفظ ''ساجدا''سے ظاہر ہے ۔
ثم وجدت فی بعض الشروح ھذا التوھم مع الدفع بعینہ فقلت الحمدللّٰہ الذی وفقنی باٰراء الفضلاء ۲؎ اھ
پھر ایک شرح میں بعینہ یہی اعتراض وجواب میں نے دیکھا تو خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے فضلاء کے افکار وآراء کی تو فیق سے نوازا اھ۔
 (۲؎ ذخیرۃ العقبی    کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضوء      نولکشور کانپور (ہند)    ۱ /۲۵ )
وستأتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی عبارۃ شرح الملتقی للمصنف والمنح۱۳ والطحطاوی۱۴ والھدایۃ۱۵ والکافی ۱۶والفتح۱۷ والحلیۃ۱۸ والدرر۱۹ بل ونصوص المتون کمختصر القدوری۲۰ والبدایۃ۲۱ والوقایۃ۲۲ والنقایۃ۲۳ والکنز۲۴ والاصلاح والغرر۲۶ والملتقی ۲۷ والتنویر۲۸ ونور الایضاح ۲۹ وبہ جزم فی الدر المختار علی ماقرر فی ردالمحتار حیث قال علی قولہ المارو ساجدا علی الہیاۃ المسنونۃ ولو فی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی ۱؎ مانصہ قولہ ولو فی غیر الصلاۃ مبالغۃ علی قولہ علی الھیاۃ المسنونۃ لا علی قولہ وساجدا یعنی ان کونہ علی الھیاۃ المسنونۃ قید فی عدم النقض ولو فی الصلاۃ وبھٰذا التقریر یوافق کلامہ ماعزاہ الی الحلبی فی شرح المنیۃ کما سیظھر ۲؎ اھ
آگے ان شاء اللہ تعالی مصنف کی شرح ملتقی منح الغفار ہدایہ کافی فتح القدیرحلیہ دررالحکام کی عبارتیں آئیں گی۔ بلکہ مختصر قدوری بدایہ وقایہ نقایہ کنزالدقائق اصلاح غرر الاحکام ملتقی الابحر ، اور تنویر الابصار ، اور  نورالایضاح جیسے متون کے نصوص بھی آئیں گے اور اسی پر در مختار میں بھی جز م کیا ہے اس تقریر کے مطابق جو رد المحتار میں پیش کی ہے ۔ اس طرح کہ درمختار کی سابقہ عبارت : وہ نیند ناقض نہیں جو مسنون ہیات پر سجدہ کی حالت میں ہو، اگر چہ غیر نماز میں یہی معتمد ہے ، اسے حلبی نے بیان کیا '' پر رد المحتار میں یہ لکھا ہے ، ان کا قول '' اگرچہ غیر نماز میں'' ان کے قول '' مسنون ہیات '' پر مبالغہ کے لئے ہے ، اس سے ان کے قول ساجد ا(بحالت سجدہ) پر مبالغہ مقصود نہیں ۔ یعنی اس کا مسنون ہیات پر ہونا وضو نہ ٹو ٹنے کے لئے قید ہے '' اگر چہ نماز میں ہو '' اور کلام شارح کی یہی تقریر کی جائے جبھی ان کا کلام اس کے موافق ہوگا جس پر انہوں نے حلبی کی شرح منیہ کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ آگے ظاہر ہوگا اھ ،
 (۱؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶) 

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۹۶)
وما ظھر بعدھو قولہ عن الحلبی انہ اعتمد فی شرحہ الصغیر ماعزا الیہ الشارح من اشتراط الہیاۃ المسنونۃ فی سجود الصلاۃ وغیرھا ۳؎ اھ ۔
آگے علامہ شامی نے یہ بتا یا ہے کہ حلبی نے اپنی شرح صغیر میں اسی پر اعتماد کیا ہے کہ سجدہ نماز وغیر نماز دونوں ہی میں ہیات مسنونہ کی شرط ہے جیسا کہ شارح نے اسے ان کے حوالے سے بتا یا اھ۔
 (۳؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۹۶)
Flag Counter