Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
104 - 123
فاقول: ان فــ اراد بالساجد الساجد الشرعی فعزو الحکم الی الخلاصۃ یصح لکنہ اذن لایتناول الا سجود الصلاۃ والسہو والتلاوۃ والشکر ویبقی کلامہ ساکتا عن حکم مااذا کان علی ھیاۃ سجود من دون سجود او فی سجود غیر مشروع کما یفعلہ بعض الناس عقیب الصلاۃ ولا شک ان کلام الخلاصۃ والخانیۃ والتحفۃ والبدائع والحلیۃ التی لخص منہا ھذا الفصل یشمل ھذہ الصور کلہا فلاوجہ لاخراجہا عن الکلام مع ان الحاجۃ ماسۃ الی ادراک حکمہا ایضاوان اراد من کان علی ھیاۃ سجود ولو لم ینوہ اولم یشرع فیجب ان یکون المراد الھیاۃ المسنونۃ للرجال لانھا المانعۃ عن الاستغراق فی النوم فکان کالنوم قائما او علی ھیاۃ رکوع اما ان یؤخذ العموم فی الساجد کما احاط بہ کلمات المنقول عنہم جمیعا وقد اشار الیہ فی الخلاصۃ حیث عبر فی الصلاۃ بلفظۃ ساجدا وفی خارجہا بلفظۃ علی ھیاۃ السجود وفی الھیاۃ ایضا کما ھو قضیۃ ردالمحتار حیث ذکر تفصیل الھیاۃ فی قول ثالث مقابل لہذا حتی یلزم ان لاینقض نوم من نام فی غیر سجود مشروع علی ھیاۃ سجود المرأۃ فلا یجوز ان یقول بہ احد فانہ حینئذ لیس الا کنوم المنبطح سواء بسواء بل ھو ھولا یفارقہ الا بقبض فی الایدی والارجل کما لایخفی۔
فاقول: اگر سجدہ کرنے والے سے شرعی سجدہ کرنے والا مراد لیا تو خلاصہ کا حوالہ صحیح ہے ،لیکن اس تقدیر پریہ صرف سجدہ نماز ، سجدہ سہو ، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کو شامل ہوگا ، اور ان کاکلام اس صورت کا حکم بتانے سے ساقط رہ جائے گا جب بے نیت سجدہ محض ہیات سجدہ ہو یا کوئی غیر مشرو ع سجدہ ہو جیسا کہ بعض لوگ بعد نماز سجدہ کرتے ہیں ، حالاں کہ خلاصہ ، خانیہ ، تحفہ ، بدائع اور حلیہ جن سے اس فصل کی تلخیص کی گئی ہے سب کاکام ان ساری صورتوں کو شامل ہے تو مذکورہ صورتوں کو کلام سے خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب کہ ان صورتوں کا بھی حکم دریافت کرنے کی ضرورت موجود ہے ، اور اگر ساجد سے وہ مراد ہے جو ہیأت سجدہ پر ہو ا گرچہ سجدہ کی نیت نہ رکھتا ہو یا وہ سجدہ مشروع نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس سے مراد وہ ہیات ہو جو مردو ں کے لئے مسنون ہے کیونکہ وہی حالت نیند کے استغراق سے روکنے والی ہے تو یہ ایسے ہی ہوا جیسے کھڑے کھڑے یا رکوع کی ہیات پر سوجانا ، لیکن یہ کہ ساجد میں عموم مراد لیا جائے ، جیساکہ ان حضرات کی عبارتیں اس کا احاطہ کرتی ہیں جن سے یہ احکام نقل کئے گئے ہیں ، اور خلاصہ میں بھی اس کی طر ف اشارہ ہے اس طر ح کہ اندرون نماز کی تعبیر لفظ ساجد سے کی ہے اور بیرون نماز کی تعبیر ہیات سجدہ سے کی ہے،او رہیات میں بھی عموم مراد لیا جائے،جیساکہ یہ کلام ردالمحتار کا مقتضا ہے اس لئے کہ انہوں نے ہیات کی تفصیل اس کے مقابل ایک تیسرے قول میں ذکر کی ہے اس پر یہ الزام آئے گا کہ جوکسی غیر مشرو ع سجدہ میں سجدہ عورت کی ہیات پر سوجائے تو اس کی نیند ناقض وضو نہ ہو ، تو اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ سونا بالکل منہ کے بل لیٹ کر سونے کی طرح ہوا بلکہ دونوں بالکل ایک ہوئے ، صرف ہاتھ پاؤں سمیٹنے کا فر ق رہا ، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔
 (یہاں مذکورہ کلام شامی کے تین معنی ذکر کئے اول مراد ہے توکلام ناقص او ربعض صورتو ں کے احاطہ سے قاصر ہوگا،دوم مراد ہو تو وہ خاص مسنون حالت پر سجدہ ہے ، سوم مراد ہو کہ کسی قسم کا بھی سجدہ کرنے والا ہے اور کسی بھی ہیات پر سجدہ کر رہا ہو اور سوجائے تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا ۱۲م)
فـــ: معروضۃ ثالثۃعلیہ۔
وراجعت الخلاصۃ فوجدت نصھا ھکذا فی الاصل قال لاینقض الوضوء النوم قاعدا او راکعا اوساجدا اوقائما ھذا فی الصّلاۃ فان نام خارج الصلاۃ قائما اوعلی ھیاۃ الرکوع والسجود فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ ۱؎ اھثم قال اذا نام فی سجود التلاوۃ لایکون حدثا عندھم جمیعا کما فی الصلٰوتیۃ وفی سجدۃ الشکر کذلک عند محمد و ھکذا روی عن ابی یوسف وسواء سجد علی ھیاۃ وجہ السنۃ او غیر السنۃ نحوان یفترش ذراعیہ ویلصق بطنہ علی فخذیہ وعند ابی حنیفۃ یکون حدثا وفی سجد تی السھو لایکون حدثا ؎۱ اھ فافاد ان عموم الھیا ۃ انما ھو فی السجود المشروع کسجود التلاوۃ والسھو عندا لکل والشکر عندھما۔لما لم تشرع سجدۃ الشکر عندہ قال بالنقض فیھا اذالم تکن علی ھیاۃ السنۃ۔
اور میں نے خلاصہ اٹھا کر دیکھا تو اس کی عبارت اس طر ح پائی'' اصل مبسوط میں ہے ، فرمایا: بیٹھ کر ، یا رکوع میں ، یا سجدہ میں یاقیام میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔یہ اندرون نماز کا حکم ہے اور اگر بیرون نماز کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات میں سوگیا تو ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان کوئی فر ق نہیں ۔اور آگے فرمایا : سجدہ تلاوت میں سوجانا ان سبھی حضرات کے نزدیک حدث نہیں جیسے کہ سجدہ نماز میں اور سجدہ شکر میں بھی امام محمد کے نزدیک یہی حکم ہے اور ایسا ہی امام ابو سف سے مروی ہے خواہ مسنون طریقہ پر سجدہ یا ہو غیر مسنون طریقہ پر ، جیسے یوں کہ کلائیاں بچھا دے اور پیٹ کو رانوں سے ملادے اور سجدے میں سوجائے ، اور امام ابو حنفیہ کے نزدیک حدث ہوگا اور سجدہ سہو میں حدث نہ ہوگا اھ۔اس کلام سے افادہ فرمایا کہ صرف سجدہ مشرو ع میں ایسا ہے کہ کسی بھی ہیات پر ہو اس میں بندے سے و ضو نہ جائے گا ، سجدہ مشرو ع جیسے سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو سب کے نزدیک اور سجدہ شکر صاحبین کے نزدیک ۔ اور سجدہ شکرچوں کہ امام اعظم کے نزدیک مشرو ع نہیں اس لئے وہ اس میں نیند کے ناقض ہونے کے قائل ہیں جب کہ مسنون ہیئت پر نہ ہو۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی     کتاب الطہارۃ     الفصل الثالث      مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۸)

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی،کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث،مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ  ،۱ /۱۹)
وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا من الکلام علی النوم فی الصّلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان قال) وان نام قائما او علی ھیاۃ الرکوع والسجود غیر مستند الی شیئ ففی البدائع العامۃ علی انہ لایکون حدثا لان استمساک فیھا باق وفی التحفۃ الاصح انہ لیس بحدث کما فی الصلاۃ وعلیہ مشی فی الخلاصۃ وذکرانہ ظاھر المذھب وعکس ھذا بالنسبۃ الی ھیاۃ الرکوع بالسجود فی الخانیۃ فذکرانہ حدث فی ظاھر الروایۃ والاول ھو المشھور کما فی الذخیرۃ ۱؎ اھ ملخصا
حلیہ کے حوالے سے اندرون نماز سونے سے متعلق جو کلام ہم نے پہلے نقل کیا اس کے بعد اس میں ہے '' اور اگر بیرون نماز ہو (اس کے بعد وہ صورتیں ذکر کیں۔ پھر کہا) اگر کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات پر کسی چیز سے ٹیک لگائے بغیر سوگیا تو بدائع میں ہے کہ عامہ علماء اس پر ہیں کہ وضو نہ جائے گا اس لئے کہ ان صورتوں میں بندش باقی رہتی ہے ۔ اور تحفہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ایسی نیند حدث نہیں جیسے اندرون نماز اسی پر خلاصہ میں مشی ہے اور ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے اور ہیات رکوع وسجود سے متعلق خانیہ میں اس کے بر عکس یہ بتایا کہ وہ ظاہر الروایہ میں حدث ہے،اور اول ہی مشہور ہے ، جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ ملخصا۔
 (۱؎حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فافادان  فـ۱ کلامھم ھذا فی غیر الصلٰوۃ وافادفــ۲ ببقاء الاستمساک ان المراد ھیاۃ السجود المسنونۃ فھذا الذی یشم من عبارۃ ردالمحتار لیس مراد الخلاصۃ ولاالتحفۃ ولا الخانیۃ ولا الذخیرۃ ولا الحلیۃ فلیتنبہ۔
اس سے مستفادہوا کہ ان حضرات کا یہ کلام بیرون نماز سونے کی صورت میں ہے ۔ اور بندش باقی رہنے سے یہ افادہ کیا کہ سجدہ کی مسنون ہیأۃ مراد ہے ۔ تو یہ عموم جو ر د المحتار کی عبارت سے متر شح ہے نہ خلاصہ کی مراد ہے نہ تحفہ کی ، نہ خانیہ ، نہ ذخیرہ ، نہ حلیہ کی ، تو اس پر متنبہ رہنا چاہیئے ۔
فــ۱: معروضۃ رابعۃ علی العلا مۃ ش۔فــ۲: معروضۃ خامسۃ علیہ۔
بقیت اربع :

و(۱ )ھی الھیاۃ المسنونۃ خارج الصلوۃ فی السجدۃ المشروعۃ ا و(۲ )غیرھا(۳ ) وغیرالمسنونۃ فی السجدۃ المشروعۃ فی الصلوۃ او۴ غیرھا۔

فھذہ تجاذبت فیھا الاٰراء ووجدت ھھنا مما اعتمدہ المصنفون فی تصانیفھم المتداولۃ فی المذھب اربعۃ اقوال۔

الاول ان کان علی ھیأۃ المسنونۃ لاینقض ولوخارج الصلوۃ، وعلی غیرھاینقض ولوفیھا۔
اب چار صورتیں باقی رہیں:

(۱) سجدہ کی مسنون ہیات بیرون نماز کسی مشر وع سجدہ میں ہو (۲) یہ ہیات کسی غیر مشرو ع سجدہ میں ہو(۳) غیر مسنون ہیات سجدہ مشرو عہ میں اندرون نماز ہو (۴) یا (یہ ہییات سجدہ مشروعہ) میں بیرون نماز ہو۔

ان ہی چارصورتوں میں آراء کی کش مکش ہے اور یہاں مجھے چار اقوال ملے جن پر مصنفین نے اپنی متداول تصانیف مذہب میں اعتماد کیا ہے ۔

قول اول : سونا اگر سجدہ کی مسنون ہیاۃ پر ہو تو ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ۔ اور غیر مسنون ہیات پر ہو تو ناقض وضو ہے اگر چہ اندون نماز ہو۔
Flag Counter