فاقول: واستعین بالقریب المجیب ذلک الوضع الذی نام فیہ اماان یکون علی الھیاۃ المسنونۃ للرجال اوعلی غیرھاوکل امافی الصلاۃ ومنھا سجود السھو وسہامن نقل الخلاف فیہ کمانبہ علیہ فی الفتح او فی سجدۃ مشروعۃ خارجہا وھی سجدۃ التلاوۃ والشکرا وفی غیر ذلک ویدخل فیہ ماکان علی ھیاۃ ساجد ولم ینوھا اصلا فالصورست۔
فاقول: و رب قریب مجیب کی مدد لیتے ہوئے عرض پر داز ہوں ، سونے والا جس وضع سجدہ پرسویاہے وہ یاتومردوں کے لئے سجدہ کی مسنون ھیأت کے مطابق ہوگی یامسنون ھیأت نہ ہوگی ، دونوں صورتیں یا تو نماز میں ہوں گی ، اسی میں سجدہ سہو بھی شامل ہے اور جس نے اس سے متعلق اختلاف نقل کیااس سے سہو ہو اجیسا کہ فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے یا بیرون نماز کسی جائز ومشروع سجدہ میں ہوں گی ، یہ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکرہے ، یا ان سب کے علاوہ میں ہوں گی اسی میں وہ بھی داخل ہے جو سجدہ کی ہیات پر ہو اور سجدہ کی کوئی نیت نہ ہو ، تویہ کل چھ صورتیں ہوئیں۔
وقد اجمعوا علی عدم النقض فی الاولی وھی السجود فی الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃاماما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا فی الصلاۃ وغیرھا قیل یکون حدثا ای مطلقا سواء کان علی الھیاۃ المسنونۃ اولا لانہ ذکر ھذا التفصیل من بعد فی قول مقابل لہ قال وذکر فی الخانیۃ انہ ظاھر الروایۃ۔ ۱؎
پہلی صورت یہ کہ نماز میں مسنون طریقہ پر سجدہ ہو ، اس صورت پر سوجانے سے وضو نہ ٹوٹنے پر سب کا اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہے کہ : بحالت سجدہ نماز میں اور بیرون نماز سوجانا کہا گیاکہ حدث ہے ، یعنی مطلقا خواہ مسنون طریقے پر ہو یا نہ ہو ، یہ اس لئے کہ علامہ شامی نے یہ تفصیل آگے اس کے مقابل ایک قول میں خود بیان کی ہے ،آگے لکھتے ہیں ، اور خانیہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر الروایۃ ہے اھ۔
۱(؎ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ،بحث نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت،۱ /۹۶)
فاقول: ھذا فــ۱ الاطلاق ان صدر عن احد فھو محجوج بنص الحدیث وتصریحات ائمۃ القدیم والحدیث وقد تقدم عن الحلیۃ ان لاخلاف عندنا فی ذلک اماالخانیۃ فــ۲فلم تذکرہ بھذا الارسال وانما نصہا ھکذا ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا نام قائما او راکعا اوساجدا اما خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الرکوع والسجود قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی یکون حدثا فی ظاھر الروایۃ وقیل ان کان ساجدا علی وجہ السنۃ بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحیث یری من خلفہ عفرۃ ابطیہ لایکون حدثا وان کان ساجدا علی وجہ غیر السنۃ بان الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ کان حدثا ۲؎اھ
اقول : یہ اطلاق (کہ نماز اور بیرون نماز مسنون یا غیر مسنون جس ہیات سجدہ پر بھی سوجائے وضو ٹو ٹ جائے گا ) اگر کسی سے صادر ہے اور کوئی اس کا قائل ہے تو اس کے خلاف نص حدیث اور عہد قدیم وجدید کے ائمہ کی تصریحات حجت ہیں حلیہ کے حوالے سے گزرچکا کہ اس بارے میں ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں ، رہا خانیہ کا حوالہ جو علامہ شامی نے پیش کیا تو خانیہ نے اس اطلاق کے ساتھ اسے بیان ہی نہ کیا ۔ ملا حظہ ہو اس کی عبارت یہ ہے ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کے اندر سونا حدث نہیں ہوتا ، قیام میں سوئے یا رکوع یا سجدے میں سوئے لیکن بیرون نماز اگر رکوع و سجود کی ہیات پر سوئے تو شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ظاہر روایت میں یہ حدث ہے ، اور کہا گیا کہ اگر سنت کے طور پر سجدہ کی حالت ہو اس طرح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے ، بازو کروٹوں سے جدا کئے ہوئے ہو کہ پیچھے والا بغلوں کی سیاہی دیکھ لے تو حدث نہ ہوگا ، اور اگر خلاف سنت سجدہ ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے ملادیا ہو اور کلائیاں بچھادی ہو ں تو حدث ہوگا اھ۔
(۲؎فتاوی قاضی خان ،کتاب الطہارۃ ، فصل فی النوم،نولکشور لکھنو ۱ /۲۰)
فــ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش۔فـــ۲: معروضہ اخری علیہ
فـاین ھذا من ذاک فلیتنبہ نعم جاء ت خلافیۃ عن ابی یوسف فی تعمد النومی علی خلاف ظاھر الروایۃ الصحیحۃ المختارۃ ولا تختص فی تحقیقنا بالسجود بل تعم الصلاۃ کلہا کما سیاتی ان شاءاللّٰہ تعالٰی۔
بتائیے اس تفصیل کو اس اطلاق سے کیا نسبت ؟ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے ، ہاں قصدا سونے کے بارے میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے صحیح ، ترجیح یافتہ ظاہر الروایہ کے بر خلاف ایک اختلافی روایت آئی ہے اور وہ ہماری تحقیق میں حالت سجدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ پوری نماز کو شامل ہے ، جیسا کہ ان شاء اللہ تعالی ذکر ہوگا
واجمعوا علی النقض فی السادسۃ وھی کونہ علی ھیاۃ سجود غیر مسنونۃ من غیرنیۃ اوفی سجدۃ غیر مشروعۃ اما ما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا قیل لایکون حدثا فی الصلاۃ وغیرھا وصححہ فی التحفۃ وذکر فی الخلاصۃ انہ ظاھر المذھب وفی الذخیرۃ ھو المشھور ۱؎ اھ۔
چھٹی صورت یہ کہ سجدہ غیر مسنون طریقہ پر ہوا اورسجدہ کی نیت بھی نہ ہو یا کسی ایسے سجدہ کی نیت ہو جو مشروع نہیں اس صورت میں سونے سے وضو ٹوٹ جانے پر اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہوا کہ'' سجدہ کرتے ہوئے سوجانا کہا گیا کہ یہ نماز میں اور بیرون نمازبھی حدث نہیں اسی کو تحفہ میں صحیح کہا ۔ اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے ۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ یہی مشہور ہے اھ''
(۱؎رد الحتار ،کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضوء،دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ /۹۶)