| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
وفی التنویر والدر قام اوقرأ اورکع او سجد او قعد الاخیر نائما لا یعتد بہ بل یعیدہ ولو القراء ۃ اوالقعدۃ علی الاصح وان لم یعد تفسد ولو رکع اوسجد فنام فیہ اجزأہ لحصول الرفع منہ والوضع ۴؎ اھ
اور تنویر اور درمیں ہے ، اگر کسی نے قیام ، قراء ت ،رکوع ، سجود یا قعدہ بحالت نیند کیا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا اس پر اس رکن کا اعادہ لازم ہے ، خواہ قراء ت یا قعدہ ہی کیوں نہ ہو ، اصح یہی ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اور اگر رکوع کیا یا سجدہ کیا پھر اسی حالت میں سوگیا تو یہی کافی ہے کیونکہ اس حالت میں جانا اور اس سے واپس آنا پایا گیا اھ۔
(۴؎ الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۱)
ولفظ المراقی وان طرأ فیہ النوم صح بما قبلہ منہ ۱؎ اھ
اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر کسی رکن میں نیند آگئی تو اس سے پہلے والا رکن صحیح رہا اھ۔
(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی،باب شروط الصلوۃ وار کانہا،دار الکتب العلمیۃ بیروت ،ص۲۳۵ )
قلت وھو اوضح و اوجہ ، قلت یہی اوضح اور اوجہ ہے ۔
وفی الدر المختار ایضا ینقضہ حکما نوم یزیل مسکتہ بحیث تزول مقعدتہ من الارض وھو النوم علی احد جنبیہ او ورکیہ اوقفاہ او وجہہ والا یزل مسکتہ لاینقض وان تعمدہ فی الصلاۃ اوغیرھا علی المختار(نص علیہ فی الفتح وھو قید فی قولہ فی الصلاۃ قال فی شرح الوھبانیۃ ظاھر الروایۃ ان النوم فی الصّلاۃ قائما اوقاعدا اوساجدا لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمدہ ش) کالنوم قاعدا اومستندا الی مالوازیل لسقط علی المذھب(ای ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ وبہ اخذ عامۃ المشائخ وھو الاصح کما فی البدائع ش وعلیہ الفتوی جواھر الاخلاطی) وساجد علی الھیاۃ المسنونۃ (بان یکون رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحر قال ط وظاھرہ ان المراد الھیئۃ المسنونۃ فی حق الرجل لاالمرأۃ ش۔
اور درمختار میں ہے کہ نیز وضو کو حکما وہ نیند توڑدیتی ہے جو چستی کو زائل کردے ، اس طرح کہ اس کی مقعد زمین سے اٹھ جائے ، مثلا ایک پہلو پر سوگیا یا سرین پر سوگیا یا گدی یا چہرے کے بل سوگیا ، اور چستی زائل نہ کرتی ہو تو ناقض وضو نہیں خواہ وہ قصدا ہی سوگیا ہو نماز میں ہو نہ ہو ، مختار یہی ہے ( فتح میں اس کی تصریح ہے ، شرح وہبانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایۃ میں ہے کہ نماز میں سونا کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر ، یا سجدہ میں ۔حدث نہ ہوگا خواہ نیند کا غلبہ ہوگیا یا قصدا نیند آئی ہو ،ش) جیسے کسی ایسی چیز سے ٹیک لگا کرسوگیا کہ اگر اس کو ہٹایاجائے تو گر پڑے ، یا بیٹھ کر سوگیا(ابو حنیفہ سے ظاہر مذہب یہی ہے اور تمام مشائخ نے اسی کو لیاہے اور یہی اصح ہے جیسا کہ بدائع میں ہے ، ش)اور اس پر فتوی ہے جواہر الاخلاطی کا اور جو شخص مسنون حالت پر سوگیا ، یعنی اس کا پیٹ رانوں سے جداہوں،بازو پہلوؤں سے جداہوں ، بحر ۔ طحطاوی نے کہا کہ بظاہر اس سے مراد وہ مسنون ہیئت ہے جو مردو ں کے لئے ہے نہ کہ عورت کے لئے ، ش
اقول: لیس فــ ھذا محل الاستظھار وقد صرح بہ السادۃ الکبار کقاضی خان وغیرہ علا انھم فــ لولم یصرحوا لکان ھو المتعین للارادۃ لان المقصود ھیاۃ تمنع الاستغراق فی النوم کما لایخفی) ولوفی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی اومتورکا(بان یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض فتح ش)اومحتبیا (بان جلس علی الیتیہ ونصب رکبتیہ وشدساقیہ الی نفسہ بیدیہ اوبشیئ یحیط من ظہرہ علیہما شرح المنیۃ ش ۔
اقول: یہ استظہار کا مقام نہیں ہے اس کی تصریح بڑے بڑے علماء مثلا قاضی خان وغیرہ نے کی ہے ، علاوہ ازیں اگر وہ اس کی تصریح نہ بھی کرتے تو یہی متعین ہوتاکیونکہ اس سے مراد ایسی ہیئت ہے جو نیند میں مستغرق ہوجانے سے مانع ہو اور یہ ظاہر ہے) یہ صورت خواہ نماز کے علاوہ ہی کیوں نہ ہوئی ہو ، معتمد مذہب یہی ہے ، اس کو حلبی نے ذکر کیا یا بطور تورک (یعنی وہ اپنے دونوں قدم ایک طرف نکال لے اور اپنے سرین زمین سے چپکا دے ، فتح وش)''اومحتبیا'' یا اپنے سرین پر بیٹھ جائے اور اپنی دونوں پنڈلیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے یا کسی چیز سے پیٹھ سے باندھ دے شرح منیہ ش۔
فــ: معروضۃ علی العلامتین ط و ش۔ فــ: معروضۃ اخری علیھما
اقول: ولا مدخل ھھنا لوضع الیدین فانما مطمح النظر تمکین الورکین ولذا عممت) وراسہ علی رکبتیہ (غیر قیدش وبالاولی اذا لم یکن رأسہ کذلک ط)اوشبہ المنکب (ای علی وجہہ وھو کما فی شروح الہدایۃ ان ینام واضعا الیتیہ علی عقبیہ وبطنہ علی فخذیہ ونقل عدم النقض بہ فی الفتح عن الذخیرۃ ایضا ش۔
اقول: اس میں ہاتھ کی وضع کا کوئی دخل نہیں ہے اصل مقصود تو دونوں سرینوں کا جمانا ہے ، اس لئے میں نے اس کو عام رکھا ہے اور اس کا سر اس کے دونوں گھٹنوں پر ہو (یہ قیدنہیں ، ش، اور جب اس کا سر اس طر ح نہ ہو تو بطریق اولی ایسا ہوگا ، ط) یااوندھے کے مشابہ (یعنی چہرے کی بل سونے والے کی طر ح اوراس کی ہیئت جیسا کہ ہدایہ کی شروح میں ہے یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں سرین اپنی دونوں ایڑیوں پر رکھے اور اپنا پیٹ اپنی دونوں رانوں پر رکھے اور اس میں نہ ٹوٹنا فتح میں ذخیرہ سے بھی منقول ہوا ، ش۔
قلت ونقل فی الہندیۃ عن محیط السرخسی انہ الاصح قال ش ثم نقل فی الفتح عن غیرھا لونام متربعا و رأسہ علی فخذیہ نقض قال وھذا یخالف مافی الذخیرۃ واختار فی شرح المنیۃ النقض فی مسألۃ الذخیرۃ لارتفاع المقعدۃ وزوال التمکن واذ ا نقض فی التربع مع انہ اشد تمکنا فالوجہ الصحیح النقض ھنا ثم ایدہ بما فی الکفایۃ عن المبسوطین من انہ لونام قاعدا او وضع الیتیہ علی عقبیہ وصارشبہ المنکب علی وجہہ قال ابو یوسف علیہ الوضوء اھ
قلت ہندیہ میں محیط سرخسی سے منقول ہے کہ اصح یہی ہے ، ش نے کہا پھر فتح میں ذخیرہ کے علاوہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص پالتی مار کر بیٹھا اور اسی حال میں سوگیا اور اس کا سرا س کی دونوں رانوں پر ہے تو وضو ٹو ٹ گیا ، یہ ذخیرہ کے مخالف ہے اور شرح منیہ میں ذخیرہ کی بیان کر دہ صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کو پسند کیا ہے کیونکہ مقعد اٹھ گئی اور استقرار ختم ہوگیا ، اور جب پالتی مار کر بیٹھنے کی صورت میں وضو ٹو ٹ گیا حالانکہ اس میں استقرار زیادہ ہے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہاں بھی ٹوٹنا چاہئے ، پھر کفایہ کی عبارت جو دونوں مبسوطوں سے منقول ہے سے تائیدکی ، اس میں یہ ہے کہ اگر بیٹھ کر سوگیا یا اپنی سر ین کو اپنی ایڑیوں پر رکھا اور اوندھا ہوگیا تو ابو یوسف فرماتے ہیں اس پر وضو لازم ہے اھ۔
اقول: ومن عرف المناط عرف القول الفصل فمن حناراسہ بحیث لم یرفع عجزہ عن الارض لم ینقض وھو مراد الشارح ومن حنا حتی رفع نقض وھو مراد الغنیۃ ولذا عولت علی ھذا التفصیل) اوفی محمل او سرج اواکاف (حال الصعود وغیرہ منیۃ ش ) ولوالدابۃ عریانا فان حال الھبوط نقض (لتجافی المقعدۃ عن ظھر الدابۃ حلیہ ش) والا(بان کان حال الصعود والاستواء منیۃ ش) لاولو نام قاعدا یتمایل فسقط ان انتبہ حین سقط (ای قبل ان یصیب جنبہ الارض ط حلیہ ش اوعند اصابۃ جنبہ الارض بلا فصل ط غنیہ ش) فلا نقض بہ یفتی (اما لواستقر ثم انتبہ نقض لانہ وجد النوم مضطجعا حلیہ ش) کناعس یفہم اکثر ما قیل عندہ(قال الرحمتی ولا ینبغی ان یغتر الانسان بنفسہ لانہ (بما یستغرقہ النوم ویظن خلافہ ش ) مزیدا مابین الاھلۃ منّی ومن ط وش )۔ ۱ ؎
اقول: جو شخص مناط کو جانتا ہے ہے وہ فیصلہ کن قول کو سمجھ سکتا ہے ، جس شخص نے اپنا سر جھکا یا مگر اپنی سرین زمین سے نہ اٹھائی تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور یہی مراد شارح کی ہے ، اور اگر سرین اٹھ گئے تو ٹو ٹ جائے گا ۔ اور غنیہ کی مراد یہی ہے اس لئے میں نے اس تفصیل پر اعتماد کیا ہے ، یا کسی محمل یا زین یانمدہ میں (چڑھنے کی صورت ہویا کوئی اور صورت ، منیہ ش) اور اگر سواری کے جانور پر زین وغیرہ نہ ہو تو اتر تے وقت وضو ٹو ٹ جائے گا ( کیونکہ سواری کی پشت سے مقعد ہٹ گئی ہوگی، حلیہ ش،) ورنہ ( مثلا یہ کہ چڑھنے یا بیٹھنے کی حالت میں ہو ، منیہ ش)تو وضو نہ ٹوٹے گا، اگر بیٹھے بیٹھے سوگیا اور ہچکولے کھاکر گر ا اور گر تے ہی بیدار ہوگیا( یعنی پہلو کے زمین پر لگنے سے قبل ط حلیہ ش یا پہلو کے زمین پر لگتے ہی بلا تاخیر گراط غنیہ ش) تو وضو نہ ٹوٹے گا یہی مفتی بہ قول ہے ، لیکن اگر ٹھہرگیا پھر بیدار ہوا تو وضوٹوٹ جائے گاکیونکہ کروٹ لینے کی حالت نیند میں پائی گئی حلیہ ش ) جیسے اونگھنے والا ، اکثر باتیں سمجھتا ہے(رحمتی نے کہا کہ انسان کو دھوکے میں نہ رہنا چاہئے ، کبھی اس پر نیند کا غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کے خلاف گمان کرتا ہے ، ش )ہلالوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ عبارت درمختار پر میرا اور شامی وطحطاوی کا اضافہ ہے۔
(۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضو مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶و۲۷) (ردالمحتار کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضو دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۵تا۹۷) (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار بحث نواقض الوضو المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۸۲)