Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
101 - 123
اقول:  عبارۃ فــ۱ الخانیۃ لونام ساجدا فی الصلاۃ لایکون حدثا فی ظاھر الروایۃ فان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ  وتفسد صلاتہ ولو تعمد النوم فی قیامہ او رکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم ۱؎ اھ فقولہ فی قولہم راجع الی مسألۃ القیام والرکوع دون السجود کما اقتضاہ اختصار الحلیۃ علی مافی نسختی کیف وعدم النقض ولو تعمد فی الصلاۃ ھو المعتمد وھو المذھب قال فی الہندیۃ ثم فی ظاھر الروایۃ لافرق بین غلبتہ وتعمدہ وعن ابی یوسف النقض فی الثانی والصحیح ما ذکر فی ظاھر الروایۃ ھکذا فی المحیط۲؎ اھ فکیف یجوز ان یکون قولھم وسیاتی عن نص الحلیۃ نفسہا۔
اقول:  خانیہ کی عبارت اگر بحالت سجدہ نماز میں سوگیا تو ظاہر روایت میں حدث نہ ہوگا کیونکہ قصدا سجدہ میں سوجانا طہارت کو بھی ختم کردیتا ہے اور نماز کو بھی ، جبکہ قصدا رکوع یا قیام میں سونا ہمارے ائمہ کے قول میں طہارت کو نہیں توڑ تا ہے اھ۔

اب اس عبارت میں '' فی قولھم''قیام ورکوع کے مسئلہ کی طر ف راجع ہے نہ کہ سجود کی طر ف ، جیسا کہ حلیہ کے اختصار میں میرے نسخہ کے مطابق ہے اور یہی درست ہے کہ قصدا بھی نماز کے اندر اگر ایسا کرے تو نہ ٹو ٹے گا ، یہی معتمد ہے اور مذہب ہے ہندیہ میں کہا کہ '' نیند  کے غلبہ یا قصدا سونے کے درمیان ظاہر الروایۃ کے مطابق کوئی فر ق نہیں ہے ، او رابو یوسف سے وضو ٹوٹنے کی روایت ہے ، لیکن صحیح وہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے ھکذا فی المحیط اھ ۔ اب یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ یہ ائمہ کا قول ہو ، اور آگےاس کا بیان خود حلیہ کی عبارت سے آرہا ہے ۔
فـــ۱:تطفل علی الحلیۃ
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب الطہارت، فصل فی النوم         نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۰    )

(۲؎ فتاوی ہندیہ     کتاب الطہارت، الباب الاول ، الفصل الخامس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۲)
ثم اقول:  لم یتعرض الامام قاضی خان ھھنا عن حکم الصلاۃ اذا تعمد النوم فی القیام اوالرکوع وعبارتہ فی مفسدات الصلاۃ ومن ثم نقل فی الفتح ھکذا اذا نام المصلی مضطجعا متعمدا فسدت صلاتہ ولو لم یتعمد فمال حتی اضطجع تنتقض طہارتہ ولا تفسد صلاتہ ولو نام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد ذٰلک لاتفسد صلاتہ وان تعمد فسدت فی السجود ولا تفسد فی الرکوع ۱؎ اھ فانما محط کلامہ طرا ان النوم ان کان ناقض الطہارۃ کما فی الاضطجاع کان تعمدہ مفسدا للصلاۃ لان تعمد الحدث یمنع البناء والا لاکنوم قائم و راکع ولذا لما حکم علی نوم الساجد العامد بافساد الصلاۃ افاد فی الفتح ماافاد فلیحفظ فان لہ شانا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
ثم اقول:  اس مقام پر قاضی خان نے قیام ورکوع کی حالت میں قصدا سونے کی صورت میں نماز کا حکم نہ بتایا ، مفسدات نماز میں ان کی عبارت یہ ہے وہیں سے فتح القدیر میں نقل کیا ہے '' جبکہ نمازی کروٹ قصدا سوگیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی ، اور اگر قصدا نہیں ہے اور اتنا جھکا کہ لیٹنے کی حد کو پہنچ گیا تو طہارت ٹوٹ جائے گی مگر نماز نہیں ٹوٹے گی ، اوراگر رکوع وسجود میں سوگیا تو اگر قصد ا نہیں ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا ہے تو سجود میں فاسد ہے رکوع میں نہیں اھ سو ان کے تمام کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ نیندا اگر ناقض طہارت ہو جیسے کہ کروٹ لیٹنے کی صورت میں ہے تو قصدا ایسی نیند مفسد صلوۃ ہے ۔ اس لئے کہ کسی حدث کا قصدا ارتکاب نماز کی بناء کے منافی ہے اگر نیند ناقض طہارت نہ ہو جیسے رکوع یا قیام میں تو مفسد صلوۃ نہیں ۔ اس لئے جب سجدہ میں قصدا سوجانے کی بابت فساد نماز کا حکم کیا تو فتح میں وہ افادہ کیا جو اس میں موجود ہے تو اس کو محفوظ کرنا چاہئے کہ اس کے لئے ایک انوکھی شان ہے اگر اللہ تعالی چاہے ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان     کتاب الصلوۃ، فصل فیما یفسد الصلوۃ     نولکشور لکھنؤ    ۱ /۶۴)
ثم قال فی الحلیۃ وذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورک فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ انتھی والعلۃ المعقولۃ فی کون النوم ناقضا استرخاء المفاصل و زوال المسکۃ وھذا لم یوجد فی ھذہ المذکورۃ والاسقط ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلٰوۃ مضطجعا اومتکئا بمعنی ان یکون معتمدا علی احد مرفقیہ کما ھو معنی التورک فی التحفۃ والبدائع ومحیط رضی الدین نقض بلا خلاف۱؎ اھ ملتقطا۔
پھر حلیہ میں فرمایا کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا کہ نماز میں کروٹ لیٹنے کی صورت کے  علاوہ سوجانا یا سرین پر بیٹھنے کی صورت کے علاوہ سوجانا حدث نہیں ہے خواہ اس پر نیند کا غلبہ ہوگیاہو یا قصدا ایسا کیا ہو ، ظاہر روایت میں یہی ہے اھ اور عقلی علت نیند کے ناقض ہونے میں جوڑوں کا ڈھیلا پڑجانا اور چستی وبندش کا ختم ہوجانا ہے ، اور یہ چیز مذکورہ صورت میں نہیں پائی گئی ورنہ وہ شخص گرجاتا  ، یہ سب صورتیں حالت نماز کی تھیں اور اگر نماز کے باہر کروٹ لیٹایا ٹیک لگائی بایں معنی کہ کسی کہنی پر ٹیک لگائے ہو جیسا کہ تورک کے یہی معنی تحفہ ، بدائع اور محیط رضی الدین میں ہیں ، تو بالاتفاق وضوٹوٹ جائے گا اھ ملتقطا
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
وفی ردالمحتار نام المریض وھو یصلی مضطجعا الصحیح النقض کما فی الفتح وغیرہ و زاد فی السراج وبہ ناخذ ۲؎ اھ
اور رد المحتا ر میں ہے کہ مریض چت لیٹ کر نماز پڑھ رہا تھا کہ سوگیا تو صحیح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ گیا ، جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے ، اور سراج میں اتنا اضافہ ہے کہ ''ہم اسی کو اختیار کر تے ہیں اھ۔
 (۲؎ ردالمحتار،کتاب الطہارۃ ،دار احیاء التراث العربی بیروت ،۱ /۹۶)
وفی الخانیۃ ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا الا ان یکون مضطجعا اومتکئا والاضطجاء علی نوعین ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضأ ویبنی وان تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل ومن عجز فصلی مضطجعا فنام ینقض ۳؎ اھ
اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں نیند صرف اضطجاع یا اتکاء کی صورت میں ناقض وضو ہے اور اضطجاع کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس پرنیند کا غلبہ ہوگیا تو سوگیا پھر سونے کی حالت ہی میں لیٹ گیا تو اس کا حکم اس حدث کا ساہے جو بے اختیار ہوگیا ۔ ایسی صورت میں وضوکر کے نماز کی بناء کرے گا ۔ اور اگر قصدا نماز میں لیٹ کر سویا تو وضو کرے گا اور از سر نو نماز ادا کرے گا ۔ اور اگر کسی معذوری کے باعث نماز لیٹ کر پڑھ رہا تھا کہ سوگیا وضو ٹو ٹ جائے گا اھ
 (۳؎ فتاوی قاضی خاں     کتاب الطہارت ، فصل فی النوم          نولکشورلکھنو  ۱ /۲۰)
وفی متن نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح فی فصل مالاینقض الوضوء (و) منہا (نوم مصل ولو راکعا اوساجدا) اذا کان (علی جہۃ السنۃ) فی ظاھر المذھب ۱؎اھ
اورنور الایضاح کے متن اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں فصل مالا ینقض الوضوء میں ہے : '' اور نواقض وضو میں نہیں ہے نمازی کا رکوع یا سجود میں سوجانا بشرطیکہ مسنون طریقہ کے مطابق ہوظاہر مذہب میں اھ''
 (۱؎ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی، فصل عشرۃ اشیاء... الخ  دار الکتب العلمیۃ بیروت   ص۹۴)
وفی منحۃ الخالق عن النھرالفائق عن عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء بنوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح ۲؎ اھ
اور منحۃ الخالق میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے عقد الفرائد سے نقل کیا کہ نماز کے سجدہ میں سوجانا وضو کو نہیں تو ڑ تا جبکہ مسنون طریقہ پرہو ، اس قید کا ذکر محیط میں ہے اوریہی صحیح ہے اھ۔
 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارت      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۸)
وقال المحقق الکبیر فی شرح المنیۃ الصغیر والمعتمد انہ ان نام علی الھیئۃ المسنونۃ فی السجود رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا مرفقیہ عن جنبیہ لایکون حدثاوالا فھو حدث لوجود نہایۃ استرخاء المفاصل سواء کان فی الصلاۃ اوخارجہا وتمام تحقیقہ فی الشرح ۳؎ اھ
محقق کبیر نے شرح منیۃ الصغیر میں فرمایا ، اگر سجدہ میں ہیئت مسنونہ پر سویا کہ پیٹ رانوں سے اور بازو پہلو سے دور ہوں تو حدث نہیں ہوگا ورنہ بو جہ کشادگی مفاصل حدث ہے بحالت ایں نماز میں ہویا نہ ہو ، اس کی مکمل تحقیق شرح میں ہے اھ
 (۳؎ صغیر ی شرح منیۃ المصلی      فصل فی نواقض الوضوء     مطبع مجتبائی دہلی      ص ۷۸)
Flag Counter