| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول: مگر یہ اُس ضابطہ منقحہ کے خلاف ہے کہ سرین دونوں جمے ہیں لیکن یہ صورت بہت نادرہ ہے، تو احتیاطاً عمل کرلینے میں حرج نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔ اور صورت بستم میں اگرچہ خاص دربارہ سجدہ نماز یا سجدہ مشروعہ مطلقا نزاع طویل وہجوم اقاویل ہے مگر تحقیق احق فــ۱ یہی ہے کہ جملہ صور مذکورہ بستگانہ میں نماز وغیر نماز سب کا حکم یکساں ہے ،نماز میں بھی سونے سے وضو نہ جانے کیلئے دونوں سرین کا جما ہونا یا ہیأت کا مانع استغراقِ نوم ہونا ضرور ہے، ولہٰذا یہی اکابر تصریح فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں لیٹ کر سویا وضو نہ رہے گا عام ازینکہ چت ہو یا پٹ یا کروٹ پر یا ایک کہنی پر تکیہ دیے، عام ازیں کہ قصداً لیٹا ہو یا سوتے میں لیٹ گیا اور فوراً فوراً جاگ نہ اُٹھا فــ۲حتی کہ اگر کوئی شخص بیماری کے سبب بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو اُسے بھی اگر لیٹے لیٹے پڑھنے میں نیند آگئی وضو جاتا رہے گا۔ غرض پہلی دس فــ۳صورتیں جن میں وضو نہیں جاتا اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی نہ جائے گا نہ نماز فاسد ہو اگرچہ قصداً سوئے، ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اُس کا اعادہ ضرور ہے اگرچہ بلا قصد سوجائے، اور جو جاگتے میں شروع کیا اور اُس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا، اور پچھلی دس صورتیں جن میں وضو جاتا رہتا ہے اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی جاتا رہے گا ،پھر اگر ان صورتوں پر قصداً سویا تو نماز بھی گئی وضو کرکے سرے سے نیت باندھے اور بلاقصد سویا تو وضو نہ گیا نماز باقی ہے ،بعد وضو پھر اسی جگہ سے پڑھ سکتا ہے جہاں نیند آگئی تھی، پھر سب صورتوں میں سونے کی تخصیص اس لئے ہے کہ اونگھ ناقضِ فــ۴ وضو نہیں جبکہ ایسا ہوشیار رہے کہ پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو، یونہی اگر بیٹھے
فــ۶بیٹھے جھوم رہا ہے وضو نہ جائے گا فــ۱:مسئلہ تحقیق یہ ہے کہ نیند کی تمام صورتوں میں نماز وغیرنماز سب کا حکم یکساں ہے ۔ فــ۲:مسئلہ بیمار لیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وضو نہ رہا۔ فــ۳:مسئلہ: نماز میں سونے کا کلیہ یہ ہے کہ اگر ان دس صورتوں پر سویا جن میں وضو نہیں جاتا تو نہ وضو جائے نہ نماز فاسد ہو ،ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اس کا اعادہ ضرور ہے، اور جوجاگتے میں شروع کیا اور اس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا اگر وہ بقدر ادا ئے رکن تھا کافی ہے ، ان احکام میں قصد اسونا اور بلا قصد سوجانا سب برابر ہے ، اور اگران دس صورت پر سویا جن میں وضو جاتا رہتا ہے تو وضو تو گیا ہی پھر اگر قصداً سویا تو نماز بھی فاسد ہوگئی ورنہ وضو کر کے جہاں سویا وہاں سے باقی نماز ادا کر سکتا ہے ۔ فــ۴: مسئلہ اونگھنے سے وضو نہیں جاتا جب کہ ہوشیاری کا حصہ غالب ہو۔ فــ۵: مسئلہ بیٹھے بیٹھے نیند کے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا اگر چہ کبھی ایک سرین اٹھ جاتا ہو۔ اگرچہ جُھومنے میں کبھی کبھی ایک سرین اُٹھ بھی جاتا ہو بلکہ اگرچہ جھوم فــ۱کر گر پڑے جبکہ فوراً ہی آنکھ کھل جائے، ہاں اگر گرنے کے ایک ہی لمحہ بعد آنکھ کھُلی تو وضو نہ رہے گا۔ فــ۱: مسئلہ جھوم کر گر پڑا اگر معا آنکھ کھل گئی وضونہ گیا۔
اقول: یہ قید ان سب صورتوں میں ہے جن میں وضو جانابیان ہوا کہ اُنہیں صورتوں پر سونا پایا جائے اور اگر سویافــ۲اُس شکل پر جس میں وضو نہ جاتا اور جسم بھاری ہو کر یہ شکل پیدا ہوئی جس سے جاتا رہتا مگر پیدا ہوتے ہی فوراً بلاوقفہ جاگ اُٹھا وضو نہ جائے گا جیسے سجدہ مسنونہ میں سویا اور کلائیاں زمین سے لگتے ہی آنکھ کھل گئی اور یہ بھی فــ۳یاد رہے کہ آدمی جب کسی کام مثلاً نماز وغیرہ کے انتظار میں جاگتا ہو اور دل اس طرف متوجہ ہے اور سونے کا قصد نہیں نیند جو آتی ہے اسے دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ غافل ہوگیا جو باتیں اس وقت ہوئیں اُن کی خبر نہیں بلکہ دو دو تین تین آوازوں میں آنکھ کھلی اور وہ اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نہ سویا تھا اس لئے کہ اس کے ذہن میں وہی مدافعت خواب کا خیال جما ہوا ہے یہاں تک کہ لوگ اس سے کہتے ہیں تُو سو گیا تھا، وہ کہتا ہے ہرگز نہیں، ایسے خیال کا اعتبار نہیں جب معتمد شخص کہے تو غافل تھا، پکارا، جواب نہ دیا، یا باتیں پُوچھی جائیں اور یہ نہ بتاسکے تو وضو لازم ہے۔
فــ۲: مسئلہ ان دسوں صورتوں میں جن سے وضو جاتا ہے ، یہی قید ہے کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے ورنہ اگر سویا اس صورت پر کہ وضو نہ جاتا اور نیند میں اس شکل پر آگیا جس میں جاتا ہے مگر معاشکل پیدا ہوتے ہی بلا وقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا۔ فـــ ۳مسئلہ ضروریہ آدمی بیٹھے بیٹھے کبھی غافل ہوجاتاہے اور سمجھتا یہ ہے کہ نہ سویا تھا اس کا ضروری بیان ۔
فی الحلیۃ النوم ان کان فی الصلاۃ فلیس بحدث الا ان یکون مضطجعا وقال قاضی خان اومتکئا ثم فی بعض شروح القدوری الاتکاء فــ۴عام والاستناد خاص وھو اتکاء الظھر لاغیر قلت لکن الظاھر ان مراد القاضی النوم علی احد و رکیہ فی الصلاۃ فان مقعدہ یکون متجافیا عن الارض فکان فی معنی النوم مضطجعا فی کونہ سببا لوجود الحدث بواسطۃ استرخاء المفاصل وزوال المسکۃ،
حلیہ میں ہے نیند بحالت نماز حدث نہیں ہے ، ہاں اگر کروٹ لیٹ کر ہو تو حدث ہے ۔ اور قاضی خاں نے اس میں ٹیک لگا کر سونے کو بھی شامل کیا ہے پھر قدوری کی بعض شرو ح میں ہے کہ اتکاء عام ہے اور استناد خاص ہے کیونکہ استناد میں صرف پیٹھ لگانا ہی ہوتا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ قاضی خان کی مراددونوں سرینوں میں سے ایک سرین کے بل نماز میں سونا ہے کیونکہ ایسی صورت میں اس کی مقعد زمین سے الگ ہوگی اور کروٹ لیٹ کر سونے کی طر ح ہوجائے گا یعنی جوڑوں کے ڈھیلا ہونے اور بندش کے ختم ہوجانے کے اعتبار سے یہ حدث کا سبب بن جائے گا ۔
فــ۴:فرق الاتکاء والاستناد
ولا یخالف ھذا مافی الخلاصۃ من عدم النقض بالنوم متورکا لانہ مفسر فیھا بان فــ۱یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض وھذا یخالف تفسیر صاحب البدائع وصاحب الاسرار فانہ قال فی تعلیل النقض انہا جلسۃ تکشف عن مخرج الحدث الا انہ وضع المسئلۃ خارج الصلٰوۃ والتعلیل یفید انہ وضع اتفاقی قال شیخنا فھذا اشتراک فی لفظ التورک ۱؎ اھ۔
یہ عبارت خلاصہ کی اس عبارت کے مخالف نہیں جس میں تورک کی حالت میں سونے کو ناقص وضو قرار نہیں دیا ہے ، کیونکہ خلاصہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ نمازی اپنے دونوں پیر ایک طر ف کو پھیلا ئے اور اپنے سر ین زمین پر رکھے ، اور یہ بدائع اور صاحب اسرار کی تفسیر کے مخالف ہے ، کیونکہ انہوں نے وضو ٹو ٹ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسی نشست ہے جو حدث کے مخرج کو کھول دیتی ہے ، مگر انہوں نے یہ مسئلہ بیرون نماز فرض کیا ہے ، لیکن جو علت بتائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ مسئلہ دونوں صورتوں کو عام ہے ، ہمارے شیخ نے فرمایا کہ یہ '' تورک'' کے لفظ میں مشترک ہے اھ۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فــ۱:للمتورک معنیان
اقول: وکذا افاد فی البحر تبعا للفتح وللذ ھول فــ۲عن ھذا وقع فی المستخلص شرح الکنز ان نقل تحت قول الکنز ونوم مضطجع ومتورک تفسیر التورک ان یخرج رجلیہ من الجانب الایمن ویلصق الیتیہ علی الارض کذا فی المستصفی۱؎ اھ۔ولم یلق بالا ان ھذا تفسیر تورک الشافعیۃ فی الصلاۃ ولیس من نواقض الوضوء قطعا ثم قال فی الحلیۃ ویلحق بالنوم مضطجعا النوم مستلقیا علی قفاہ اومنبطحا علی وجہہ فان فی کل استرخاء المفاصل وزوال المسکۃ علی الکمال کالاضطجاع ثم لاخلاف عندنا فی عدم النقض للوضوء اذا کان فی الصلاۃ فی غیر ھذہ الحالات التی ذکرناھا اذا لم یکن متعمدا فان متعمدا ففی الخانیۃ ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ فی قولھم اھ قال شیخنا کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظران یفصل فی ذلک السجود ان کان متجافیا لایفسدو الا یفسد ۲؎ اھ مافی الحلیۃ۔
فتح کی پیروی میں بحر نے بھی یہی لکھا ہے اور چونکہ یہ بحث ذہن سے اتر گئی اس لئے کنز کی شرح مستخلص میں '' نوم متورک''کے تحت نقل کیا کہ تو رک کے معنی یہ ہیں کہ اپنے دونوں پیروں کو دائیں جانب سے نکالے اور اپنے دونوں سرین زمین پر لگائے ، جیسا کہ المستصفی میں ہے اھ۔ یہ خیال نہ کیا کہ یہ اس تورک کی تفسیر ہے جو شا فعیہ کے نزدیک نماز میں ہوتا ہے اور نواقص وضو سے قطعا نہیں ہے پھر حلیہ میں کہا کہ مضطجعا سونے کے حکم میں گدی کے بل سونا یا چہرے کے بل سونا بھی ہے کیونکہ ان تمام صورتوں میں جوڑڈھیلے ہوجاتے ہیں اور چستی ختم ہوجاتی ہے ، جیسے چت لیٹ کر سونے میں ہوتا ہے ۔ ہمارے نزدیک اگر مذکورہ حالات کے علاوہ نماز میں ہوتونا قض وضو نہیں او راس میں اتفاق ہے صرف ایک شرط ہے کہ قصد اور ارادہ نہ ہو ۔ خانیہ میں ہے کہ اگر کوئی ارادتا سجدہ میں سوگیا تو ان کے قول کے مطابق اس کی طہارت ختم ہوجائے گی اھ ہمارے شیخ فرماتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ حالت رکوع میں چستی برقرار رہتی ہے جبکہ سجود میں نہیں ۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو سجدہ میں یہ تفصیل کرنی چاہئے کہ اگر وہ زمین سے الگ ہے تو ناقض نہیں ورنہ ناقض ہے حلیہ کا بیان ختم ہوا ۔
فــ۲:تطفل علی المستخلص
(۱؎ مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق کتاب فی بیان احکام الطہارۃ مطبع کا نشی رام پرنٹنگ پریس لاہور ۱/۴۰) (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )