Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
99 - 107
پھر ایک دن آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکو بادشاہِ مصر نے بلایا اور آپ  کے عقائد کے بارے میں پوچھنے لگا، آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے وہاں اَحسن انداز سے اپنے عقائد کو بیان کیا جنہیں سن کر وہ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ سے خوش ہوگیا ، اس کے بعد ایک دن آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکو خلیفہمُتَوَکِّلْ بِاللہ نے بھی طلب کیا ، اس نے بھی جب آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکے نظریات و افکار ملاحظہ کئے تو آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکا اتنادلدادہ اور گرویدہ ہوگیا کہ کہا کرتا تھا : جب بھی اللہعَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کا ذکر ہو تو سب سے پہلے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃُ اللہِ القویکا ذکر کیا کرو ۔ (سیراعلام النبلائ،ذوالنون المصری،۱۰/۱۸ ،رقم الترجمہ:۱۹۵۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(51)آج تو مجھے قتل ہی کرا دیا تھا 
	خلیفہ منصور کے مصاحِب ربیع کو حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہسے چَشْمَک تھی،ایک دن امام صاحب کے موجودگی میں اس نے خلیفہ سے کہا:اے امیر المومنین!ابوحنیفہ آپ کے جدِّ امجد حضرت سیدناعبدُاللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی مخالفت کرتے ہیں ،اُن کا قول ہے کہ اگر کوئی قسم کھائے اور پھر اس کے ایک دو دن بعد بھی اِنْ شَآءَاللہ  کہہ دے تو اس کا استثناء صحیح ہے لیکن ابوحنیفہ کے نزدیک صرف وہی استثناء درست ہے جو قسم سے متصل ہو(یعنی قسم کے فوراً بعد