Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
98 - 107
گناہوں کے امراض سے نیم جاں ہوں
پئے مُرشِدی دے شِفا یاالٰہی(وسائل بخشش ،ص۱۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(50)جھوٹے گواہ بننے والے غرق ہوگئے
	حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فَرْجی علیہ رحمۃُ اللہِ الولیفرماتے ہیں : میں حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃُ اللہِ القویکے ساتھ ایک کشتی میں سوار تھا کہ ایک اور کشتی ہمارے پاس سے گزری ۔ کسی نے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃُ اللہِ القویکو بتایا:یہ کشتی والے بادشاہ کے پاس جارہے ہیں اور وہاں جاکر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکے خلاف کفْر(یعنی مَعَاذَ اللہعَزَّوَجَلَّ!آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکے کافر ہونے) کی گواہی دیں گے ۔ یہ سن کر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے اس کشتی کے غرق ہوجانے کی دعا کی ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکے دعا کرتے ہی ان کی کشتی اُلٹ گئی اور سب کے سب ڈوب گئے ۔ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فَرْجی علیہ رحمۃُ اللہِ الولیفرماتے ہیں : میں نے عرض کی : حضور! ملاح (کشتی چلانے والے )کا کیا قصور تھا ؟ فرمایا: اس نے ان لوگوں کو کیوں سوار کیا حالانکہ وہ ان کے مقصدِ سفر کو جانتا تھا۔پھر فرمایا:ان لوگوں کا اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں غرْق ہو کر حاضر ہونا جھوٹا گواہ بن کر حاضر ہونے سے بہترہے ۔اس کے بعد آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکی کیفیت تبدیل ہوئی اور آپ کانپتے ہوئے فرمانے لگے : اللہعَزَّوَجَلَّ کی عزت و شان کی قسم ! میں آئندہ کسی کے لئے بد دعا نہیں کروں گا۔