جو شخص سزا کی اس قسم کے بارے میں غور کرے گا وہ اسے اپنی تاک میں پائے گا یہاں تک کہ حضرت سیدنا وہب بن وردرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں عرض کی گئی:کیا گناہ کرنے والا اطاعت کی لذت پاتا ہے؟ارشاد فرمایا:(گناہ کا ارتکاب کرنے والا تو دور)گناہ کا ارادہ کرنے والا بھی اطاعت کی لذت نہیں پاسکتا ۔ چنانچہ جو شخص اپنی نگاہوں کو آزاد چھوڑتا ہے(یعنی بدنگاہی سے نہیں بچاتا)وہ نگاہِ عبرت سے محروم ہوجاتا ہے،زبان کی حفاظت نہ کرنے والا دل کی صفائی سے محروم ہوجاتا ہے،کھانے کے معاملے میں شبہات سے نہ بچنے والے کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ رات میں عبادت اور مناجات ودعا کی حلاوت(مٹھاس)سے محروم رہتا ہے۔یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ نفس کا محاسبہ کرنے والے حضرات اس سے واقف ہوتے ہیں۔گناہوں کی جلد سزا ملنے کی طرح نیکیوں کا معاملہ بھی ہے کہ ان کی جزاء بھی جلد(دنیا میں ہی)مل جاتی ہے،جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے:عورت کی طرف دیکھنا شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے،جس نے میری رضا کے حصول کیلئے اسے ترک کیا تو میں اسے ایسا ایمان عطا کروں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں پائے گا۔حضرت سیدنا عثمان نیشا پوری علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کا بیان ہے :میں نمازِ جمعہ کیلئے جارہا تھا کہ میرے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ میں اسے دُرُست کرنے کیلئے ٹھہرا اور پھر میں نے کہا :یہ تسمہ اسلئے ٹوٹا ہے کیونکہ میں نے غسلِ جمعہ نہیں کیا۔(صید الخاطر،ص۳۷، ملخصاً))