(یعنی جنت کی نعمتوں کی حقیقت دنیوی چیزوں سے مختلف ہے)۔اس کا سبب یہ ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّنے دنیوی نعمتوں کے ذریعے اخروی نعمتوں کا شوق دلایا اور دنیوی عذابات کے ذریعے آخرت کے عذابوں سے ڈرایا ہے۔دنیا میں جاری معاملات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ظلم کرنے والے کوآخرت کے بدلے سے پہلے دنیا میں ہی اس کے ظلم کا بدلہ مل جاتا ہے یونہی دیگر گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔ اللہعَزَّوَجَلَّکے فرمان عالی شان: مَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا یُّجْزَ بِہٖ ۙترجَمۂ کنزالایمان: جو برائی کرے گااس کا بدلہ پائے گا۔(پ۵،النساء :۱۲۳) کا یہی مفہوم ہے۔بعض اوقات گناہوں کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے بدن اور مال کو سلامت دیکھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں مل رہی حالانکہ اس کا اپنی سزا سے غافل ہونا بھی ایک قسم کی سزا ہے۔
حکماء فرماتے ہیں :ایک گناہ کے بعد دوسرے گناہ میں مبتلا ہونا پہلے گناہ کی سزا ہے جبکہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کی توفیق ملنا پہلی نیکی کا بدلہ ہے۔بعض اوقات گناہوں کی جلد ملنے والی سزا (حسی اورظاہری نہیں بلکہ) معنوی (باطنی،روحانی) ہوتی ہے جیسا کہ بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:اے میرے رب!میں تیری کتنی نافرمانی کرتا ہوں لیکن تو مجھے سزا نہیں دیتا۔ جواب دیا گیا:میں تجھے سزا دیتا ہوں لیکن تجھے اس کا احساس نہیں ہوتا،کیا میں نے تجھے مناجات کی حلاوت (مٹھاس)سے محروم نہیں کردیا؟