Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
95 - 107
نہایت غمگین لہجے میں اپنا درد بیان کیا اور اولڈ ہاؤس میں چھوڑ کر چلے جانے پر اپنے عزیزوں کے متعلّق نہایت تَأَ سُّف و حسرت کا اظہارکیا اور کہاکہ ہماری آرزو ہے کہ ہمارے خاندان والے ہمیں گھر واپس لے چلیں ہم یہاں کافی دُکھی ہیں۔ ہائے ! ہائے!وہ اولاد کتنی احسان فراموش اور ناخَلَف و نالائق ہے جو بچپن میں ماں باپ کی طرف سے کئے جانے والے تمام احسانات کو فراموش کر کے بُڑھاپے میں انہیں ٹھکرا دیتی ہے۔ حالانکہ بڑھاپے میں تو بے چاروں کو ہمدردیوں کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔ اسلامی بھائیو ! آپ عہد کیجئے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ماں باپ کو عمر بھر نبھائیں گے اور ان کی خدمت کرکے خود کو جنَّت کا حقدار بنائیں گے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ۔(نیکی کی دعوت، ص۴۴۲)؎
مُطِیع اپنے ماں باپ کا کر میں انکا
ہر اِک حکم لاؤں بجا یاالٰہی(وسائل بخشش ،ص۱۰۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ دنیا میں بھی مل کر رہتا ہے
	علامہ ابنِ جوزی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی لکھتے ہیں :  اللہعَزَّوَجَلَّ نے دنیا میں جو بھی چیز پیدا فرمائی وہ آخرت کا نمونہ ہے اسی طرح دنیا میں پیش آنے والے معاملات بھی اخروی معاملات کا نمونہ ہیں۔حضرت سیدنا عبدُاللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں :جنت کی نعمتیں صرف اپنے ناموں میں دنیوی اشیاء کے مشابہ ہیں