سُوجن ہو جاتی ہے، جس سے وہاں ہوا نہیں جا سکتی اور مریض کوسانس لینے میں سخت تکلیف ہوتی ہے اور اِس کا درجۂ حرارت (یعنی بخار)105 ڈگری تک بڑھ جاتا ہے ۔ اِس بیماری کی تاب نہ لاتے ہوئے بُڑھیا نے دم توڑدیا۔ کچھ دن بعد’’ مَیری‘‘ اپنی ماں کا سامان لینے اولڈہاؤس آئی، اُس نے وہاں کی خادِمہ نَینسی کا بَہُت شکریہ ادا کیا کیوں کہ وہ آخِری وَقت تک اُس کی بوڑھی ماں کی خدمت کرتی رہی تھی، چونکہ نَینسی ابھی جوان تھی اورکافی خدمت گزار بھی، اِ سلئے ’’ مَیری ‘‘ نے بہتر تنخواہ کا لالچ دیکر اُسے اپنے گھر خدمتگاری کے کام کیلئے چلنے کی آفر کی۔ ’’ نَینسی ‘‘ نے چوٹ کرتے ہوئے کہا: آپ کے گھر ضَرور آؤں گی ، مگر ابھی نہیں ، جس دن آپ کی بیٹی اِلیْزَبِیْتْھآپ کو یہاں اَولڈہاؤس میں چھوڑ جائیگی ، میں اُس کے ساتھ اُس کی خدمت کیلئے چلی جاؤں گی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تو ایک غیر مسلم خاندان کا واقِعہ تھا، اسے سُن کر آپ کو شاید کچھ عجیب سامحسوس ہورہا ہو گا۔ غیر اسلامی مُمالِک میں بکثرت اولڈ ہاؤس ہیں او ر افسو س اب ان کی دیکھا دیکھی اسلامی ملکوں حتّٰی کہ پاکستان میں بھی اس کا آغاز ہو چکا ہے! دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 16ربیعُ النور شریف۱۴۳۲ھ(19.2.2011)کو مُعمَّرحضرات (یعنی بوڑھوں )کا مَدَنی مذاکرہ ہوا تھا جس میں مُلک بھر سے ہزاروں سِن رَسیدہ بزرگوں نے شرکت کی تھی اوریہ مدنی مذاکرہ ’’ مدنی چینل ‘‘ پر براہِ راست ٹیلی کاسٹ (TELECAST)کیا گیا تھا۔ کسی پاکستانی اولڈہاؤس میں مقیم دو نہایت کمزور بزرگوں نے اسلامی بھائیوں سے