اولڈ ہاؤس ملنے آیا کریں گے، ہفتہ اتوار(دو دن) گھر پربھی لایا کریں گے، بھلا اولڈ ہاؤس میں جانے سے کوئی رشتے بھی ٹوٹتے ہیں ! شُروع شُروع میں ’’مَیری‘‘ نے ماں سے ملاقاتیں بھی کیں مگر رفتہ رفتہ اِس میں فاصِلے بڑھتے گئے ۔ اور بالآخِر ’’انتِظار‘‘ بڑھیا کا مقدّر بن گیا۔ وہ مَحَبَّت بھرے لمبے لمبے خط تیّار کرتی ، نواسی اِلیْزَبِیْتْھکو پیار لکھتی مگر کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ ایکبا رخط میں بیٹی نے لکھا کہ اب کی بار کرسِمس (CHRISTMAS)کی اگلی رات میں آپ کو لینے آؤں گی، گھر چلیں گے۔ بڑھیا کی خوشی کی انتِہا نہ رہی، اُس نے اُون(WOOL)سے اپنی پیاری نواسی کیلئے سوئیٹر وغیرہ بُناتاکہ اُسے تحفے میں دے۔ 24دسمبر کو رات سخت برفباری تھی’’ مَیری‘‘ نے لینے کیلئے آناتھا اس لئے وہ اپنا ’’ تحفۂ محبَّت ‘‘ لئے انتِظار میں بلڈنگ کی بالکونی میں بیٹھی بے قراری کے ساتھ سڑک پر آنے جانے والی ہر گاڑی کو غور سے دیکھ رہی تھی کہ دیکھو’’مَیری‘‘ کی گاڑی کب آتی ہے! اولڈ ہاؤس کی ایک خادِمہ لڑکی’’ نَینسی‘‘ (NENSI) کو بڑھیا کی بیقراری دیکھ کر بڑا ترس آرہا تھا اُس نے ہیٹر والے کمرے میں چلنے کیلئے بَہُت اِصرار کیا مگر بڑھیا نہ مانی۔ نَینسی نے ایک گرم شال لا کر اُسے اُڑھا دی اورہمدردی کے ساتھ بار بارگرما گرم چائے پیش کرتی رہی ،بُڑھیا نے سخت سردی کے اندر ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے انتِظار میں ساری رات جاگ کر گزار دی مگر بیٹی نے نہ آنا تھا، نہ آئی۔ شدید سردی کی وجہ سے بُڑھیا کو سخت نَمونیا ہو گیا،جو کہ سردی لگنے،کھانسی ہو جانے اور گلا خراب ہونے سے لاحق ہو تا ہے، اِس میں پھیپھڑے کے کسی حصّے میں