Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
92 - 107
(49)بوڑھی ماں 
	 شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب ’’نیکی کی دعوت‘‘ کے صفحہ 442پر لکھتے ہیں :انگلینڈ کے ایک جَریدے میں کچھ اِس طرح کا سنسی خیز قِصّہ لکھا تھا ، ایک ماں کی ایک ہی اکلوتی بیٹی ’’ مَیری‘‘ MARYکے علاوہ کوئی اولاد نہیں تھی، ’’ مَیری‘‘ جب جوان ہوئی تو ماں نے ایک کھاتے پیتے اورسماجی طور پر مُعزَّز نوجوان سے اُس کی شادی کردی اور خود بھی انہیں کے ساتھ مُقیم ہو گئی ۔ ان کے یہاں ایک چاند سی مُنّی پیدا ہوئی، اُس کا نام اِلیْزَبِیْتْھ(ELIZABETH) رکھا گیا ، نانی کو گویا ایک کھلونا مل گیا ، نواسی اِلیْزَبِیْتْھ اُس کے ساتھ خوب ہِل گئی، وَقت گزرتا گیااِدھر  اِلیْزَبِیْتْھ بڑی ہوتی جا رہی تھی تو اُدھر نانی بڑھاپے کی طر ف رواں دواں تھی۔ اب ننھی  اِلیْزَبِیْتْھاتنی سنبھل گئی تھی کہ اپنے کپڑے وغیرہ خود تبدیل کر لیتی تھی ۔ ’’ مَیری‘‘ نے سوچا ماں اب بوڑھی ہو چکی ہے، مہمان وغیرہ آتے ہیں تو اُن میں یہ جچتی نہیں ہے، لہٰذا اُس نے ماں کو بوڑھوں کے خُصُوصی گھریعنی اَولڈ ہاؤس(OLD HOUSE)میں داخِل کروا دیا، ماں نے بَہُت احتجاج کیا، گھر میں اپنی ضَرورت کا اِحساس دلایا، نواسی اِلیْزَبِیْتْھ کی پرورش کا عُذر کیا،مگر اس کی ایک نہ چلی۔ اِلیْزَبِیْتْھ کو بھی نانی سے پیار ہو گیا تھا،اُ س نے بھی نانی کی بَہُت حمایت کی مگر اُس کی بھی شِنوائی نہ ہوئی۔ ’’ مَیری ‘‘حیلے بہانے کرتی رہی کہ مکان میں تنگی ہو رہی ہے، آپ بے فکر رہیں ہم وقتاً فوقتاً