ماں باپ کی نافرمانی کریں اور کل آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار ہو اور آپ کے لئے فتنہ، آزمائش اور جگ ہنسائی کا باعث نہ بنے۔کانٹے بو کر گلاب کی توقُّع رکھنا بے کار ہے۔ خزاں کے موسم میں بہار کی اُمیدیں باندھنا نادانی ہے۔ بَنجر زمینوں میں بیج بو کر نخلستانوں کے خواب دیکھنا حماقت ہے۔ اگر موتیے، چنبیلی اور گلاب کی پیوند کاری کریں گے تو یقینا طرح طرح کی خوشبوؤں سے آپ کی زندگی مہک جائے گی ،یہی قانونِ قدرت ہے۔آج سے اپنے والدین کو پھولوں کی سیج پر بٹھائیں ، ان کے احکامات سر آنکھوں پر رکھیں ، انھیں اُف تک نہ کہیں تاکہ کل آپ کی اولاد آپ کے سر پر عزت و وقار اور قدر دانی کا تاج پہنائے۔ یہ دنیا دارُالعمل ہے، آخرت دارُالجزا ہے۔ دارالجزا میں بدلہ پانے سے پہلے اس دنیا میں ہی بہترین جزا کے حقدار بن کر دکھائیں تاکہ اللہ تعالٰی کی رضا اور رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت کے حقدار ٹھہریں۔
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنلکھتے ہیں :بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے،(کَمَا تَدِیْنُ تُدَانُ) جیسا کرو گے ویسا بھرو گے(ت)۔(فتاوی رضویہ ،۲۴/۴۲۴)