Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
90 - 107
تیرے محل کے ویران ہونے کاانتظار ہے، یہ سن کر بادشاہ ہنسا اور اس مظلومہ کا مذاق اڑایامگر جب رات ہوئی تو بادشاہ کا محل زمیں بوس ہوگیا اور بادشاہ مع اہل خانہ اس میں دفن ہوگیا۔محل کی ایک دیوار پر کچھ اشعار لکھے ہوئے نظر آئے جن کا مفہوم یہ ہے:
	کیا دعا کو حقیر جان کر اس کا مذاق اُڑاتا ہے، کیا اسے معلو م نہیں کہ دعا نے کیا کر ڈالا؟ رات کے تیر کبھی خطا نہیں کرتے، لیکن اس کے لئے ایک وقفہ ہوتا ہے، اور مدت کا اختتام کبھی تو ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہی کیا جو تو نے دیکھااور تمہاری بادشاہی کو دوام ہرگزنہیں۔(روض الریاحین،ص۲۵۳)
اُونچے اُونچے مکان تھے جن کے	 تنگ قبروں میں آج آن پڑے
آج وہ ہیں نہ ہیں مکاں باقی		نام کو بھی نہیں ہیں نشاں باقی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(48) مجھے آگے جاکر پھینکو
	کہتے ہیں ایک جوان اپنے بوڑھے باپ سے تنگ آ کر اس کو دریا میں پھینکنے گیا۔ باپ نے کہا: بیٹا!مجھے ذرا اور آگے گہرائی میں جا کر پھینکو۔ بیٹے نے کہا: یہاں کنارے پہ کیوں نہیں اور وہاں گہرائی میں کیوں ؟ باپ نے جواب دیا:اس لئے کہ یہاں تو میں نے اپنے باپ کو پھینکاتھا۔ یہ سن کربیٹا کانپ اٹھا کہ کل یہی انجام میرا ہو گا۔ وہ باپ کو گھر لے آیا اور اس کی خدمت شروع کر دی۔
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ آج آپ اپنے