Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
89 - 107
(46)چور اپاہج ہوگیا
	حضرتِ شیخ ابوالحسن نوری علیہ رحمۃُ اللہِ القوی لبِ دریا کپڑے رکھ کر پانی میں غسل کرنے کے لئے گئے، اتنے میں ایک چور آپ کے کپڑے لے کر نو دو گیارہ ہوگیا۔ جب آپ غسل کرکے واپس آئے تو ادھر سے چور بھی حضرت کے کپڑے لئے واپس آگیا، اس کے ہاتھ معذور ہوگئے تھے۔ آپ نے اپنے کپڑے پہن لئے تو دعامانگی: مالک و مولا !اس نے میرے کپڑے واپس کردیئے تو اس کی تندرستی اور صحت اسے واپس کردے۔وہ فوراً صحت یاب ہوکر چلا گیا۔(روض الریاحین،ص۲۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(47) محل ویران ہوگیا
	ایک اسرائیلی مومنہ کا واقعہ ہے کہ اس کا مکان شاہی محل کے سامنے تھا جس کی وجہ سے محل کی خوشنمائی داغدار ہورہی تھی۔ بادشاہ نے باربار کہا کہ یہ مکان میرے ہاتھ فروخت کردو مگر وہ راضی نہیں ہوئی اور انکار کردیا۔ ایک بار جب وہ سفر پر گئی تو بادشاہ نے اس کی جھونپڑی گرا دینے کا حکم دے دیا ،جب وہ واپس آئی تو اپنی گری ہوئی جھونپڑی دیکھ کر پوچھا: یہ کس نے گرائی ؟ اسے بتایا گیا :بادشاہ نے ۔وہ آسمان کی طرف سر اٹھا کر عرض کرنے لگی: اے میرے مالک ، اے میرے مولا ! میں سفر میں تھی مگر تُو تو موجود تھا، کمزوروں اور مظلوموں کا تو ہی تو مددگار ہے، یہ کہہ کر وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ بادشاہ جب سواری پر ادھر سے گزرا تو پوچھا:کس کا انتظار کررہی ہو ؟ کہنے لگی: