Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
88 - 107
اپنے اہل خانہ سمیت جل کر ہلاک ہوگیا۔(تفسیر کبیر،پ۶،المائدۃ،تحت الآیۃ:۵۸،۴/۳۸۸)
 ناچ رنگ کی مَحفِل جاری تھی کہ۔۔۔
	۳رَمَضانُ المبارَک ۱۴۲۶ھ بمطابِق 8.10.05  کو اسلام آباد کی پُر شکوہ عمارت ’’مارگَلہ ٹاور‘‘ میں کچھ مغرِبی تہذیب کے دلداہ مسلمانوں نے یہود ونصاریٰ کے ساتھ مل کرمَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!اِحتِرامِ رَمَضانُ المبارَک کوبالائے طاق رکھ کر شراب پی کر خوب ناچ رنگ کی محفل برپا کی ۔ یہ لوگ اپنی عاقِبت کے انجام سے بِالکل بے خبر گناہوں کے اِن گِھنونے کاموں میں ابھی مشغول تھے کہ اچانک خوفناک زَلزلہ آیا اور اس نے عیش پرستوں کی تمام ترمسرَّتوں اور سر مستیوں کوخاک میں ملا کر رکھ دیا!  
کٹا ہوا سر
	  اسلام آبادمارگَلہ ٹاور کے ملبہ میں ایک شَخص کا کٹاہواسر ملا، دھڑنہ مل سکا اس کے بعض شناساؤں نے بتایاکہ یہ بد نصیب شخص جب اذان شروع ہوتی تو گانوں کی آواز مزید اونچی کرلیتاتھا۔
یاد رکھ تُو موت اچانک آئیگی
ساری مستی خاک میں مل جائیگی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد