جیسا بوئیں گے ویسا کاٹیں گے
ہمیں اپنی زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب عبادت کر لینی چاہئے کہ مرنے کے بعد اِس کا موقع نہ مل سکے گا۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب لوگوں کے پاس بیٹھتے تو فرماتے:’’اے لوگو!شب و روز گزرنے کے ساتھ ساتھ تمہاری عمریں بھی کم ہوتی جا رہی ہیں ، تمہارے اعمال لکھے جارہے ہیں۔ موت اچانک آئے گی ،پس جو نیکی کی فصل بوئے گا جلد ہی اسے شوق سے کاٹے گا اور جوبرائی کی کھیتی بوئے گااسے ندامت کے ساتھ کاٹنا پڑے گا ۔ ہر ایک اپنی ہی اُگائی ہوئی کھیتی کاٹے گا۔سستی و کاہلی کرنے والا اپنے عمل کے ذریعے آگے کبھی نہیں بڑھ پائے گا اور حرص و لالچ میں مبتلا صرف اپنا مقدرہی حاصل کر پائے گا ۔ جسے بھی بھلائی کی توفیق ملی وہ اللہعَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے اور جسے برائی سے بچایا گیا تووہ بھی اللہعَزَّوَجَلَّہی کے کرم سے ہے۔ متقی وپرہیزگارعام لوگوں کے سردار اور فقہا، رہنماہیں۔ان کی صحبت اختیارکرنا نیکیوں میں اضافے کا سبب ہے۔‘‘
(الزہد للامام احمد،باب فضل ابی ہریرۃ،ص۱۸۳،رقم:۸۸۹)
(45)اذا ن کا مذاق اڑانے والے کا انجام
ایک غیر مسلم جب موذن کو اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہکہتے سنتا تو کہتا:جھوٹا جل جائے(مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)۔ایک دن اس کی خادمہ رات میں آگ لیکر آئی تو اس میں سے ایک چنگاری اُڑی جس سے گھر میں آگ لگ گئی اور وہ شخص