(44)ماں کے گستاخ کو زمین زندہ نگل گئی!
کسی گاؤں میں ایک کِسان کے گھر کے اندر ساس بَہُو کے درمیان ہمیشہ ٹھنی رہتی تھی،کئی بارکِسان کی بیوی روٹھ کرمَیکے چلی جاتی اوروہ مِنّت سَماجت کر کے اُس کو لے آتا۔آخِری بار بیوی نے کسان سے کہہ دیا کہ اب اِس گھر کے اندر میں رہوں گی یا تمہاری ماں۔کِسان اپنی بیوی پرلَٹّو تھا،اِس نادان نے دل ہی دل میں طے کر لیا کہ روز روز کے جھگڑے کا حل یِہی ہے کہ ماں کو راستے سے ہٹا دیاجائے۔ چُنانچِہ ایک بار وہ کسی حیلے سے ماں کو اپنے گنّے کے کھیت میں لے گیا،گنّے کاٹتے کاٹتے موقع پا کر ماں کا رُخ کر کے جُوں ہی اُس پر کلہاڑی کا وار کرنا چاہا ایک دم زمین نے اُس کِسان کے پاؤں پکڑ لئے،کلہاڑی ہاتھ سے چھوٹ کر دُور جا پڑی اورماں گھبرا کر چِلّاتی ہوئی گاؤں کی طرف بھاگ نکلی۔زمین نے آہِستہ آہِستہ کِسان کو نگلنا شُروع کر دیا،وہ گھبرا کر چیختا رہا اور اپنی ماں کو پکار پکار کر مُعافی مانگتا رہالیکن ماں بَہُت دُور جا چُکی تھی،کچھ دیر بعد جب لوگ وہاں پہنچے تو وہ چھاتی تک زمین میں دھنس چکا تھا،لوگ اُسے نکالنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے مگر زمین اُسے نگلتی ہی رہی یہاں تک کہ وہ زمین کے اندرسَما گیا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!توبہ!توبہ!!لرزاٹھو!!!اور اگر ماں باپ کو کبھی ناراض کیا ہے تو جلدی جلدی ان کے قدموں میں گر کر رو رو کر ان سے مُعافی کی بھیک مانگ لو،یہ تو دنیا کی سزا تھی جو اُس ماں کے نافرمان نادان کسان کی دیکھی گئی اگر وہ