(43)پانچ درہم بھی مل گئے اور پانی بھی
حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکا بیان ہے :ایک بار سفر کے دوران مجھے ایک خشک بیابان سے گزرنا پڑا،اس دوران مجھے پیاس لگی لیکن کہیں سے پانی دستیاب نہ ہوسکا۔میں نے ایک اَعرابی کو دیکھا جس کے پاس پانی کا مشکیزہ تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ پانی کا یہ مشکیزہ کتنے کا بیچو گے؟اس نے کہا:پانچ درہم میں۔میں نے قیمت کم کرانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور آخر میں نے پانچ درہم کے بدلے اس سے مشکیزہ خرید لیا۔کچھ دیر بعد میں نے اس سے کہا: میرے بھائی!میرے پاس ستو موجود ہیں ،کیا آپ کھائیں گے؟اس نے کہا:کیوں نہیں ،چنانچہ ایک پیالے میں ڈال کر اسے ستّو دئیے گئے اور وہ انہیں کھانے لگا۔ستو کھاکر اسے پیاس لگی اور اس نے پوچھا:پانی کا ایک پیالہ کتنے کا ملے گا؟میں نے کہا:پانچ درہم میں ،اس نے منت سماجت کی لیکن میں نہ مانا۔آخر کار اس نے پانچ درہم کے بدلے پانی کا پیالہ حاصل کیا،اس طرح مجھے پانی بھی حاصل ہوا اور اپنے پانچ درہم بھی واپس مل گئے۔(المناقب للموفق،۱/۱۸۹)
اس حکایت میں گراں فروشوں (یعنی بہت مہنگا مال بیچنے والوں ) کے لئے درسِ عبرت ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بطورِ کریانہ فروش آپ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہوں اور کوئی ڈاکٹر آپ کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار بیٹھا ہو، جو رقم آپ کمائیں وہ کسی ڈاکٹر کسی مکینک کسی الیکٹریشن کی جیب میں چلی جائے ، کر بھلا ہوبھلا۔