(42)یہ میری ذمہ داری نہیں ہے
وَقْت بے وَقْت کسی کو ٹوکتے رہنے ،ڈانٹ پلانے یا جھاڑنے کی عادت سے ممکن ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہماری مدد سے انکار کردے جب ہم شدید پریشانی میں مدد کے طلب گار ہوں۔ اس بات کو ایک حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے: چنانچِہ ایک نک چڑھا رئیس اپنے نوکروں کو وَقْت بے وَقْت ڈانٹتا جھاڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نوکروں کے دل میں اس کی عداوت بیٹھ چکی تھی۔اس رئیس نے ہر نوکر کو اس کی ذمہ داریوں کی تحریری لسٹ(List) بنا کر دی ہوئی تھی اگر کوئی نوکر کبھی کوئی کام چھوڑ دیتا تو رئیس اُسے وہ لسٹ دِکھا دِکھا کر ذلیل کرتا ۔ایک مرتبہ وہ گھڑ سواری کا شوق پورا کرکے گھوڑے سے اُتر رہا تھا کہ اُس کا پاؤں رِکاب میں اُلجھ گیااسی دوران گھوڑا بھاگ کھڑا ہوا ،اب رئیس اُلٹا لٹکاگھوڑے کے ساتھ ساتھ گھسٹ رہا تھا ۔ اس نے پاس کھڑے نوکر کو مدد کے لئے پکارا مگر اسے تو بدلہ چُکانے کا موقع مل گیا تھا ،چنانچہ اس نے اپنے مالک کی مدد کرنے کے بجائے جیب سے رئیس کی دی ہوئی لسٹ نکالی اور دُور ہی سے اس کو دکھا کر کہنے لگا کہ اِس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر تمہارا پاؤں گھوڑے کی رِکاب میں اُلجھ جائے تو اسے چُھڑانا میری ڈیوٹی ہے ۔ یہ سن کر رئیس نوکروں سے کئے ہوئے بُرے سلوک پر پچھتانے لگا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد