Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
82 - 107
مجھے گندہ دَہَن(یعنی بدبودارمنہ والا) کہا کرتے ہو !‘‘ مقرَّب شخص نے عَرض کی: ’’میں نے تو کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ ‘‘ بادشاہ نے منہ پر ہاتھ رکھنے کی وجہ دریافت کی، تو اِس نے عَرض  کی : ’’ اس شخص نے مجھے بہت سا کچّالَہسن کھلا دیا تھا ،میں نہیں چاہتا تھا  کہ اس کی بُو آپ تک پہنچے۔‘‘ بادشاہ سارا معاملہ سمجھ گیا اور کہا:تم اپنی جگہ پر لوٹ جاؤ،تم نے سچ کہا،برے آدمی کی برائی اسے کفایت کرگئی۔
 (احیاء علوم الدین،کتاب ذم الغضب۔۔الخ، بیان ذم الحسد،۳/۲۳۳ )
شکار کرنے چلے تھے،شکار ہوبیٹھے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے حَسَد ولالچ کے مَذْمُوم(یعنی بُرے)  جذبے نے دَرباری کو کیسی خطرناک اور شَرمناک سازِش کرنے پر تیار کیا لیکن ’’خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘ کے مِصْدَاق وہ اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر موت کے منہ میں جاپہنچا ۔ نیزاِس حِکایت سے یہ دَرس بھی ملا کہ کسی کی نعمتیں یا فضیلتیں دیکھ کر دل نہیں جلانا چاہئے اورنہ ہی اُس سے نعمتوں کے چِھن جانے کی تمنّاکرنی چاہئے کیونکہ اسے یہ سب کچھ دینے والا ہمارا خالِق ومالِک عَزَّوَجَلَّ ہے اوروہ بے نیاز ہے جس کو چاہے جتنا چاہے نَواز دے، ہم کون ہوتے ہیں اس کی تقسیم پر اِعتراض یا شکوہ کرنے والے!؎
رِہائی مجھ کو ملے کاش ! نفس وشیطاں سے
تِرے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یاربّ(وسائل بخشش ص ۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد