لاش میں بُھس بھر کر ہماری طرف روانہ کرو۔
بادشاہ کی یہ عادت تھی کہ جب کسی کو اِنعام و اِکرام دینا مقصود ہوتا تو خود اپنے ہاتھ سے خط لکھتا ، اِس کے علاوہ کوئی بھی حُکْم اپنے ہاتھ سے نہ لکھتا تھالیکن اِس مرتبہ اُس نے خلافِ معمول اپنے ہاتھ سے سزا کا حُکم لکھ دیا ۔ جب وہ مُقَرَّب آدَمی خط لے کر شاہی مَحَل سے باہَر نکلا تو حاسِد نے اُس سے پوچھا: ’’یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اُس نے جواب دیا: ’’بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے فُلاں عامِل کے لئے خط لکھا تھا، یہ وُہی ہے۔‘‘ حاسِد نے خط لکھنے کے سابِقہ طریقے پر قِیاس کرتے ہوئے لالچ میں آ کر کہا : ’’ یہ خط مجھے دے دو۔‘‘مُقَرَّب نے اعلیٰ ظَرفی کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے خط اس کے حوالے کر دیا۔ حاسِد فوراً عامِل کے پاس پہنچا اور خط اس کے ہاتھ میں دینے کے بعد اِنعام و اِکرام طلب کیا ۔ عامِل نے کہا: ’’ اِس میں تو خط لانے والے کے قتل کرنے کا حُکم دَرج ہے۔‘‘ اب تو حاسِد کے اَوسان خطا ہو گئے، بڑی عاجِزی سے بولا: ’’یقین کرو کہ یہ خط تو کسی دوسرے شخص کے لئے لکھا گیا تھا، تم بادشاہ سے معلوم کروا لو۔‘‘عامِل نے جواب دیا: ’’ بادشاہ سلامت کے حُکم میں کسی’’ اگر مگر‘‘ کی گنجائش نہیں ہوتی ۔‘‘ یہ کہہ کر اسے قتل کروا دیا۔
دوسرے دن مُقَرَّب آدمی، حسبِ معمول دربار میں پہنچا اور نصیحت بیان کی۔ بادشاہ نے مُتَعجِّب ہو کر اپنے خط کے بارے میں پوچھا۔اُس نے کہا :’’ وہ تو مجھ سے فُلاں درباری نے لے لیا تھا۔‘‘ بادشاہ نے کہا : ’’ وہ تو تمہارے بارے میں بتاتا تھا کہ تم