(41) شکاری خود شکار ہوگیا
ایک شخص کوکسی بادشاہ کے دربار میں خصوصی رُتبہ حاصِل تھا ۔ وہ روزانہ بادشاہ کے رُوبرو کھڑے ہو کر بطورِ نصیحت کہا کرتا تھا : ’’ اِحسان کرنے والے کے اِحسان کا بدلہ دو ، برے شخص سے بُرائی سے پیش نہ آؤ کیونکہ بُرے انسان کے لئے توخود اُس کی برائی ہی کافی ہے ۔‘‘ بادشاہ اس کی بہترین نصیحتوں کی وجہ سے اُسے بہت محبوب رکھتا تھا۔بادشاہ کی طرف سے دی جانے والی عزت ومحبت دیکھ کر ایک درباری کو اُس شخص سے حَسَد ہو گیا ۔ ایک دن حاسِد درباری اس شخص کی عزّت کے خاتمے کے لئے بادشاہ سے جھوٹ بولتے ہوئے کہنے لگا : یہ شخص آپ کے بارے میں لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ ’’ بادشاہ کے منہ سے بَہُت بدبو آتی ہے۔‘‘ بادشاہ نے پوچھا: ’’تمہارے پاس اِس کا کیا ثبوت ہے؟‘‘ اُس نے عَرض کی : ’’ کل اسے اپنے قریب بلا کر دیکھئے، یہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا ۔‘‘ اگلے روز حاسِد ، اُس مقرَّب شخص کو اپنے گھر لے گیا اور اُسے بہت ساراکچّے لہسن والا سالن کھلا دیا۔ یہ مُقرَّب شخص کھانے سے فارِغ ہو کر حسبِ معمول دربار پہنچا اور بادشاہ کے رُوبَرو نصیحت بیان کی ۔ بادشاہ نے اُسے اپنے قریب بلایا، اُس نے اِس خیال سے کہ میرے مُنہ کی لَہسن کی بو بادشاہ تک نہ پہنچے، اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔ بادشاہ کو اِس حَرَکت کے باعِث یقین ہو گیا کہ دوسرا درباری دُرُست کہہ رہا تھا۔ بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے ایک ’’عامِل ‘‘ (یعنی سرکاری اہل کار)کو خط لکھا: اِس خط کے لانے والے کی فوراً گردن اُڑا دو اور اِس کی