نے آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارہواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا مگر جب اُس نے مالوں کا حساب لگایا تو ایک بہت بڑی رقم زکوٰۃکی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دم حِرْص و بخل کا بھوت سوار ہو گیا اور نہ صرف زکوٰۃ کا مُنکِر ہو گیا بلکہ عام طور پر بنی اسرائیل کو بہکانے لگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس بہانے تمہارے مالوں کو لے لینا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لوگوں کو بَرگَشتَہ (یعنی خلاف)کرنے کے لئے اُس خبیث نے یہ گندی اور گھناؤنی چال چلی کہ ایک بے شرم عورت کو بہت زیادہ مال و دولت دے کر آمادہ کرلیا کہ وہ آپ پر بدکاری کا الزام لگائے۔ چنانچہ عین اُس وقت جب کہ حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام وعظ فرما رہے تھے۔ قارون نے آپ کو ٹوکا کہ آپ نے فلانی عورت سے بدکاری کی ہے۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا کہ اُس عورت کو میرے سامنے لاؤ۔ چنانچہ وہ عورت بلائی گئی تو حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے عورت! اُس اللہ کی قسم! جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا کو پھاڑ دیا اور عافیت و سلامتی کے ساتھ دریا کے پار کرا کر فرعون سے نجات دی،سچ سچ کہہ دے کہ اصل بات کیا ہے؟وہ عورت سہم کر کانپنے لگی اور اس نے مجمع ِ عام میں صاف صاف کہہ دیا : اے اللہعَزَّوَجَلَّ کے نبی! مجھ کو قارون نے کثیر دولت دے کر آپ پر بہتان لگانے کے لئے آمادہ کیا ہے۔ حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آبدیدہ ہو کر سجدے میں گرگئے اور بحالت ِ سجدہ آپ نے یہ