(38)خوفناک ڈاکو
شیخ عبداﷲ شافِعی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی اپنے سفر نامے میں لکھتے ہیں : ایک بار میں شہر بصرہ سے ایک قَریہ(یعنی گاؤں ) کی طرف جارہا تھا۔دوپَہَر کے وقت یکایک ایک خوفناک ڈاکو ہم پر حملہ آور ہوا،میرے رفیق(یعنی ساتھی) کو اس نے شہید کر ڈالا، ہمارا مال ومَتاع چِھین کر میرے دونوں ہاتھ رسّی سے باندھے ، مجھے زمین پر ڈالا اورفِرار ہوگیا۔میں نے جوں توں ہاتھ کھولے اور چل پڑا مگر پریشانی کے عالَم میں رستہ بھول گیا،یہاں تک کہ رات آگئی ۔ایک طرف آگ کی روشنی دیکھ کرمیں اُسی سَمْت چلدیا، کچھ دیر چلنے کے بعد مجھے ایک خَیمہ نظر آیا، میں شدّتِ پیاس سے نڈھال ہوچکا تھا، لہٰذا خَیمے کے دروازے پرکھڑے ہوکر میں نے صدا لگائی: اَلْعَطَش! اَلْعَطَش! یعنی ’’ہائے پیاس !ہائے پیاس!‘‘ اِتِّفاق سے وہ خیمہ اُسی خوفناک ڈاکو کا تھا !میری پکار سن کر بجائے پانی کے ننگی تلوار لئے وہ باہَر نکلا اور چاہا کہ ایک ہی وار میں میرا کام تمام کردے،اُس کی بیوی آڑے آئی مگروہ نہ مانا اور مجھے گھسیٹتا ہوا دور جنگل میں لے آیا اورمیرے سینے پر چڑھ گیامیرے گلے پر تلوار رکھ کرمجھے ذَبح کرنے ہی والا تھا کہ یکایک جھاڑیوں کی طرف سے ایک شیر دَہاڑتا ہوا برآمد ہوا، شیرکو دیکھ کر خوف کے مارے ڈاکو دُور جا گرا ،شَیر نے جھپٹ کر اُسے چیر پھاڑ ڈالا اور جھاڑیوں میں غائب ہوگیا۔ میں اس غیبی امداد پر اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لایا۔(ظلم کا انجام، ص۲)
ع سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام برا ہے