Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
71 - 107
 سارا قراٰن شریف بُھلادیا گیا، خوب توبہ کی اور روتے ہوئے مشہور تابِعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی بارگاہ میں حاضِر ہوکر رُوداد عرض کر کے طالبِ دُعا ہوئے۔ فرمایا: اِسی سال حج کی سعادت حاصل کرو اور منیٰ شریف کی مسجدُالخَیف شریف میں جاکر وہاں پیش امام سے دعا کرواؤ۔ چنانچِہ (سابِقہ) حافِظ صاحِب نے حج کیا اورمسجدُالْخَیف شریف میں ظُہر سے پہلے حاضِر ہوگئے، ایک نورانی چہرے والے بوڑھے پیش امام صاحِب لوگوں کے جُھرمَٹ کے اندر مِحراب میں تشریف فرما تھے۔ کچھ دیر کے بعد ایک صاحِب تشریف لائے، بَشُمُول امام صاحِب سب نے کھڑے ہو کر ان کا استِقبال کیا، نووارِد(نئے آنیوالے صاحِب) بھی اسی حلقے میں بیٹھ گئے۔ اذان ہوئی اور نَمازظُہر کے بعد لوگ مُنتَشِر ہوگئے۔ پیش امام صاحِب کو تنہا پاکر( سابِقہ) حافِظ صاحِب آگے بڑھے اور سلام و دست بوسی کے بعد روتے ہوئے  مُدَّعا عرض کر کے دُعا کی التِجا کی، پیش امام صاحِب کے دُعا کرتے ہی سارا قراٰنِ مجید پھرحِفظ ہوگیا، امام صاحِب نے پوچھا: تمہیں میرا پتا کس نے بتایا؟ عرض کی: حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی)نے۔ فرمانے لگے: اچّھا! اُنہوں نے میرا پردہ فاش کیا ہے، اب میں بھی اُن کا راز کھولتا ہوں ، سنو! ظہر سے پہلے جن صاحِب کی آمد پر اُٹھ کر سب نے تعظیم کی تھی وہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی)تھے! وہ اپنی کرامت سے بصرہ سے یہاں مِنیٰ شریف کیمسجدُ الْخَیف میں تشریف لاکر روزانہ نَمازِ ظہر ادا فرماتے ہیں۔( تذکرۃ الاولیائ،ذکر حسن بصری،