شخص! میرا حال نہ پوچھ، میں ان بدنصیبوں میں سے ہوں جو امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کوشہید کرنے کے لئے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مکان میں داخِل ہو گئے تھے ، میں جب تلوار لے کر قریب پہنچا توآپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجۂ محترمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مجھے زورزور سے ڈانٹنے لگیں تو میں نے غصّے میں آ کر بی بی صاحِبہرضی اللہ تعالٰی عنہا کوتھپڑ ماردیا !یہ دیکھ کر امیرُالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تڑپ کر یہ دعا مانگی: ’’اللہ تعالیٰ تیرے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹے،تجھے اندھا کرے اور تجھ کو جہنَّم میں جھونک دے۔‘‘ اے شخص! امیرُالمؤمِنین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پُر جلال چِہرے کو دیکھ کر اوران کی اس قاہِرانہ دعا کو سن کر میرے بدن کا ایک ایک رُونگٹا کھڑا ہوگیا اور میں خوف سے کانپتا ہوا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ میں امیرُالمؤمِنین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی چاردُعاؤں میں سے تین کی زَد میں تو آچکا ہوں ، تم دیکھ ہی رہے ہوکہ میرے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹ چکے اور آنکھیں بھی اندھی ہوچکیں ،آہ! اب صِرف چوتھی دعا یعنی میرا جہنَّم میں داخِل ہونا باقی رہ گیا ہے۔ (الرّیا ض النضرۃ فی مناقِب العَشرۃ،جُزئ: ۳،ص۴۱) ؎
عداوت اور کینہ ان سے جو رکھتا ہے سینے میں
وہی بدبخت ہے ملعون ہے مردود شیطانی(وسائل بخشش،ص۵۸۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد