باندھ دی ، اِتِّفاق سے وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اُڑتے اُڑتے ایک دیوار کی دراڑ میں گُھس گئی مگرڈوری باہَر ہی لٹک رہی تھی،میں نے ڈوری پکڑ کرزور سے کھینچی تو چِڑیا پھڑکتی ہوئی باہَر نکل پڑی مگربے چاری کی ٹانگ ڈوری سے کٹ چکی تھی، میری ماں نے یہ درد ناک منظر دیکھا تو صدمے سے تڑپ اُٹھی اور اُس کے منہ سے میرے لئے یہ بددُعا نکل گئی : ’’جس طرح تو نے اِس بے زَبان کی ٹانگ کاٹ ڈالی، __ تیری ٹانگ کاٹے ۔‘‘بات آئی گئی ہو گئی،کچھ عرصے کے بعد تحصیلِ علم کیلئے میں نے ’’بُخارا‘‘ کا سفر اختیار کیا، اِثنائے راہ سُواری سے گر پڑا، ٹانگ پر شدید چوٹ لگی، ’’بُخارا‘‘ پَہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی، بالآخِر ٹانگ کٹوانی پڑی۔ (حیاۃُ الحیوان،۲/ ۱۶۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(35) پُراسرار معذور
حضرتِ سیِّدُنا ابُو قِلابَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے مُلک شام میں ایک آدَمی دیکھا جو بار بار یہ صدا لگا رہا تھا: ’’ہائے افسوس! میرے لئے جہنَّم ہے ۔‘‘میں اُٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رَہ گیا کہ اس کے دونوں ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہیں ، دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اورمُنہ کے بل زمین پر اَوندھا پڑا ہو ابارباریہی کہے جا رہا ہے کہ ’’ہائے افسوس ! میرے لئے جہنَّم ہے ۔‘‘میں نے اس سے پوچھا کہ اے آدمی!کیوں اورکس بِناء پر تُو یہ کہہ رہا ہے؟ یہ سُن کر اس نے کہا: اے