Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
67 - 107
ابونصر محمد بن مروان نے اس سے ہنسنے کا سبب دریافت کیا تو کردی کہنے لگا کہ میں جب جوان تھا تو چور تھا۔ ایک روز میں نے ایک تاجر کو ہدف بنایااور اس کو قتل کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تاجر نے گڑگڑاتے ہوئے اپنی جاں بخشی کی درخواست کی لیکن میں باز نہ آیا۔جب اس نے دیکھا کہ میں اسے قتل کرکے رہوں گا تووہ یکایک پہاڑ پر بیٹھے دو چکوروں کی طرف دیکھنے لگا اور ان سے کہنے لگا کہ تم دونوں گواہ ہوجاؤ یہ آدمی مجھ کو ظلماً ہلاک کر رہا ہے ۔ پھر میں نے اس کو قتل کر دیا۔ جس وقت مجھے کھانے میں ان دوچکوروں کی جھلک دکھائی دی تو مجھے اس تاجر کی بیوقوفی پر ہنسی آئی جو کہ دو چکوروں کو میرے خلاف گواہ بنا رہا تھا ۔ کُردی کی یہ بات سن کر ابو نصر بن مروان نے کہا :بخدا! ان دونوں چکوروں نے تیرے خلاف ایسے شخص کے پاس گواہی دی ہے، جس کے پاس گواہی دینا مفید بھی ہے اور وہ تمہیں سزا بھی دے سکتا ہے۔ پھر ابو نصر بن مروان نے کُردی کا سر قلم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔(حیاۃ الحیوان،۱/۳۲۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(34) ایک ٹانگ کٹ گئی 
	حضرتِ علّامہ کمالُ الدّین دَمیری علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی نَقل کرتے ہیں : ’’زَمَخْشَری‘‘ (جو کہ مُعتزِلی فرقے کا ایک مشہور عالم گزرا ہے اُس)کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ، لوگوں کے پوچھنے پر اُس نے انکِشاف کیا کہ یہ میری ماں کی بد دُعا کا نتیجہ ہے، قِصّہ یوں ہوا کہ میں نے بچپن میں ایک چِڑیا پکڑی اور اُس کی ٹانگ میں ڈوری