کر عُتَیْبَہ کے بستر پرپہنچا اور اس کے سر کو چبا ڈالا۔ لوگوں نے ہر چند شیر کو تلاش کیا مگر کچھ بھی پتا نہیں چل سکا کہ یہ شیر کہاں سے آیا تھا اور کدھر چلا گیا؟(شرح الزرقانی،فی ذکر اولادہ الکرام،۴/۳۲۵)
نہ اٹھ سکے گا قیامت تلک خدا کی قسم
کہ جس کو تم نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا
خدا کی شان دیکھئے کہ ابولہب کے دونوں بیٹوں عُتْبَہ اورعُتَیْبَہ نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دونوں شہزادیوں کو اپنے باپ کے مجبور کرنے سے طلاق دے دی مگر عتبہ نے چونکہ بارگاہِ نبوت میں کوئی گستاخی اور بے ادبی نہیں کی تھی اس لئے وہ قہرِالٰہی میں مبتلا نہیں ہوابلکہ فتح مکہ کے دن اس نے اور اس کے ایک دوسرے بھائی ’’مُعَتِّب‘‘ دونوں نے اسلام قبول کرلیا اور دست ِاقدس پر بیعت کرکے شرفِ صحابیت سے سرفراز ہوگئے۔ ’’عُتَیْبَہ‘‘ نے چونکہ بارگاہِ اقدس میں گستاخی و بے ادبی کی تھی اس لئے وہ قہرِ قہار و غضبِ جبّار میں گرفتار ہو کر کفرکی حالت میں ایک خونخوار شیر کے حملے کا شکار بن گیا۔(والعیا ذ باﷲ تعالٰی منہ)(سیرت مصطفی ،ص۶۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(33) ظلم کا انجام
ابو نصرمحمد بن مَروان ایک کُردی کے ہمراہ کھانا کھا رہا تھا،دستر خوان پر دو بھنے ہوئے چکوربھی موجود تھے ۔ کردی نے ایک چکوراٹھایااور ہنسناشروع کر دیا ۔