Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
65 - 107
(32)شیر نے سر چبا ڈالا
	شہزادیٔ رسول حضرت سیِّدَتُنا ام کلثوم رضی اللہ تعالٰی عنہا   پہلے ابولہب کے بیٹے ’’عُتَیْبَہ‘‘ کے نکاح میں تھیں لیکن ابولہب کے مجبور کر دینے سے بدنصیب عُتَیْبَہ نے ان کو رخصتی سے قبل ہی طلاق دے دی اور اس ظالم نے بارگاہِ نبوت میں انتہائی گستاخی بھی کی۔ یہاں تک کہ بدزبانی کرتے ہوئے حضور رحمۃٌ للعالمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمپر جھپٹ پڑا اور آپ کے مقدَّس پیراہن کو پھاڑ ڈالا۔ اس گستاخ کی بے ادبی سے آپ کے قلبِ نازُک پر انتہائی رنج و صدمہ گزرا اورجوشِ غم میں آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکل گئے کہ ’’یااللہعَزَّوَجَلَّ! اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط فرما دے۔‘‘اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہواکہ ابولہب اورعُتَیْبَہ دونوں تجارت کے لئے ایک قافلے کے ساتھ ملک شام گئے اور مقامِ ’’زَرْقا‘‘ میں ایک راہب کے پاس رات میں ٹھہرے۔ راہب نے قافلہ والوں کو بتایا کہ یہاں درندے بہت ہیں ، آپ لوگ ذرا ہوشیار ہو کر سوئیں۔ یہ سن کر ابولہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ اے لوگو!محمد (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے میرے بیٹیعُتَیْبَہ کے لئے ہلاکت کی دعا کر دی ہے۔ لہٰذا تم لوگ تمام تجارتی سامانوں کو اکٹھا کرکے اس کے اوپرعُتَیْبَہ  کا بستر لگادو اور سب لوگ اس کے ارد گرد چاروں طرف سو جاؤ تاکہ میرا بیٹا درندوں کے حملہ سے محفوظ رہے۔ چنانچہ قافلہ والوں نیعُتَیْبَہ کی حفاظت کا پورا پورا بندوبست کیا لیکن رات میں بالکل اچانک ایک شیر آیا اور سب کو سونگھتے ہوئے کود