Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
64 - 107
ہاں ! ’’میرے سَر کے بال ‘‘ ۔ چالاک عورت ساری بات سمجھ گئی۔ آخِر ایک بار مَوقع پاکر اُس نے آپ( رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ) کو آپ ہی کے اُن آٹھ گیسوؤں سے باندھ دیا جِن کی درازی زَمین تک تھی۔ ( یہ اگلی اُمّت کے بزرگ تھے، ہمارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سنّتِ گیسو زآدھے کان، پورے کان اور مبارک کندھوں تک ہے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے:شانوں سے نیچے ڈھلکے ہوئے عورتوں کے سے بال رکھنا حرام ہے۔(فتاوی رضویہ،۲۱/۶۰۰) آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے آنکھ کھلنے پر بڑا زور لگایا مگرآزاد نہ ہو سکے ۔دُنیا کی دولت کے نَشہ میں بَدمست بے وفا عورت نے اپنے نیک اور پارسا شوہر کو دشمنوں کے حوالے کردیا۔  کُفَّارِ بَداَطوار نے حضرت ِشَمْعُون( رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ) کو ایک سُتُون سے باندھ دیا اور اِنتہائی بے دردی اور سَفَّاکی سے اُن کے کان اور ہونٹ کاٹ دیئے، تمام کفار وہیں جمع تھے، تب اس مردِ مجاہد نے اللہعَزَّوَجَلَّ سے دعا کی کہ مجھے ان بندھنوں کو توڑنے کی قوت بخش دے اور ان کافروں پر یہ ستون مع چھت کے گرادے اور مجھے ان کے چُنگل سے نجات دیدے چنانچہاللہعَزَّوَجَلَّ نے انہیں قوت عطا فرمائی وہ ہلے تو ان کے تمام بندھن ٹوٹ گئے، انہوں نے ستون کو ہلایا جس کی وجہ سے چھت کافروں پر آگری اوراللہعَزَّوَجَلَّ نے ان سب کو ہلاک کردیا اور حضرت ِشَمْعُون( رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ)کو ان سے نجات بخش دی۔ (مُکاشَفَۃُ القُلُوب،فی فضل لیلۃ القدر،ص۳۰۶، بتغیرٍ)؎
گناہ بے عَدَد اور جُرْم بھی ہیں لاتعداد
معاف کردے نہ سہ پاؤں گا سزا یاربّ(وسائل بخشش ص۷۸)