حالت میں پائے تَوانہیں نِہایَت ہی مضبوط رَسیّوں سے خوب اچھّی طرح جَکَڑ کر اِن کے حوالے کردے ۔چُنانچِہبے وَفا بیوی نے ایساہی کیا ۔ جب آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ بیدار ہوئے اور اپنے آپ کو رَسیّوں سے بندھا ہوا پایا تو فوراً اپنے اَعضاء کو حَرَکت دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے رسیّاں ٹوٹ گئیں اور آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ آزاد ہوگئے۔ پھر اپنی بیوی سے اِسْتِفسَار کیا : مجھے کِس نے باندھا تھا؟ بے وفا بیوی نے وفاداری کی نَقلی اَداؤں سے جُھوٹ مُوٹ کہہ دیا کہ میں تو آپ کی طاقت کا اندازہ کررہی تھی کہ آپ اِن رسیّوں سے کِس طرح اپنے آپ کو آزاد کرواتے ہیں ؟ بات رَفع دَفع ہوگئی۔ ایک بار ناکام ہونے کے باوُجُود بے وفا بیوی نے ہِمّت نہیں ہاری اور مُسَلْسَل اِس بات کی تاک میں رہی کہ کب آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ پر نیند طاری ہو اوروہ اِنہیں باند ھ دے۔ آخِر کار ایکبارپھر موقع مل ہی گیا،لہٰذا جب آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ پر نیند کا غَلَبہ ہُوا تو اُس ظالِمہ نے نِہایَت ہی چالاکی کے ساتھ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کو لوہے کی زنجیروں میں اچھّی طرح جَکڑدیا۔جُوں ہی آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کی آنکھ کھُلی ، ایک ہی جھٹکے میں زنجیر کی ایک ایک کڑی الگ کردی اور بَآسانی آزاد ہوگئے ۔ بیوی یہ منظر دیکھ کر سَٹپٹَا گئی مگر پھر مَکّاری سے کام لیتے ہوئے وُہی بات دُہرادی کہ میں توآپ کو آزما رہی تھی۔دَورانِ گفتگو حضرتِ شَمْعَونرحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے اپنی بیوی کے آگے اپنا راز اِفشاء کردیا کہ مجھ پراللہعَزَّوَجَلَّ کا بڑا کرم ہے اُس نے مجھے اپنی وِلایت کا شَرَف عِنایَت فرمایا ہے ، مجھ پر دُنیا کی کوئی چیز اَثَر نہیں کرسکتی مگر