تھے۔آپ نے ایک مرغ پال رکھا تھا جس کی بانگ پررات میں نماز کیلئے بیدار ہوا کرتے تھے۔ایک رات مرغ نے اپنے وقت پر بانگ نہ دی جس کے سبب حضرت سیدنا سعید بن جبیررضی اللہ تعالٰی عنہ نماز کیلئے نہ اٹھ سکے۔یہ بات آپ پر گراں گزری اور آپ نے فرمایا:اللہعَزَّوَجَلَّاس کی آواز کو منقطع کرے!اسے کیا ہوا؟آپ کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ اس کے بعد اس مرغ نے کبھی بانگ نہ دی۔آپ کی والدۂ محترمہ نے آپ سے فرمایا:بیٹا!آج کے بعد کسی چیز پر بددعا نہ کرنا۔اس قدر مقبول الدعا ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے حجاج بن یوسف کے ظُلْم پر صَبْر کیا یہاں تک کہ آپ کو شہید کردیا گیا لیکن آپ نے اس مصیبت سے چھٹکارے کیلئے دعا نہ کی۔ (جامع العلوم والحکم،ص۴۵۸بتصرف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(31) لالچی بیوی کا انجام
حضرتِ سیدناشَمْعُون رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے ہزار ماہ اِس طرح عِبادت کی کہ رات کو قِیام اور دِن کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہعَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جِہاد بھی کرتے ۔ وہ اِس قَدَر طاقتور تھے کہ لوہے کی وَزنی اور مَضبوط زنجیروں کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالتے تھے۔ کُفَّار ِنَاہَنجارنے جب دیکھا کہ حضرتِ شَمْعُو ن رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ پر کوئی بھی حَربہ کار گر نہیں ہوتا توباہم مشورہ کرنے کے بعد بَہُت سارے مال و دولت کا لالچ دیکر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کی زَوجہ کو اِس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ کسی رات نیند کی