ایک دوپہر وہ اپنے ڈیرے پر موجود تھا کہ نامعلوم کس بات پر ایک مزارع(زمینوں پر کام کرنے والے مزدور)پر غصہ آگیا ، زمیندار نے ڈنڈا پکڑا اور اس کی پٹائی شروع کردی ۔اس بے چارے نے جان بچانے کے لئے بھاگ کر ایک جھونپڑے میں پناہ لی ۔ زمیندار نے باہر سے کنڈی لگا کر جھونپڑے کو آگ لگا دی ، جھونپڑا گھاس پھونس اور لکڑی کا ہی تو تھا ،چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے الاؤ کی شکل اختیار کرگیا ۔ کسی مائی کے لال میں جراء ت نہیں تھی کہ زمیندار کی موجودگی میں آگے بڑھ کر اس غریب کی مددکرتا لہٰذا وہ غریب جھونپڑے کے اندر ہی جل کر بھسم ہوگیا ۔کسی نے زمیندار کے خلاف قانونی کاروائی کی ہمت نہیں کی ،کچھ دن قرب وجوار میں سرگوشیوں کے انداز میں اس سانحے کا ذکر ہوا پھر خاموشی چھا گئی ۔
اس کے چند ہفتوں بعد زمیندار کے گھٹنوں میں شدید تکلیف شروع ہوگئی ، پہلے درد پھر سوجن اور پھر فالج کا مرض لاحق ہوگیا ۔ زمیندار کے لئے ہلنا جُلنا دوبھر ہوگیا ، ملازم اسے بستر سے استنجا خانے لے جاتے اور واپس بستر پر ڈال دیتے ۔ اس کی زندگی بے رونق ہوگئی ۔ پھر مئی کا مہینہ آیا اور گندم کی کٹائی شروع ہوگئی ۔زمیندار نے زمینوں پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا کہ تھریشر سے گندم نکلتے ہوئے بھی دیکھ لوں گا، ہواخواری بھی ہوجائے گی یوں میرا دل بہل جائے گا ۔ملازموں نے اٹھاکر گاڑی میں ڈالا اور ڈرائیور لے کر چل دیا ۔چلتے چلتے وہ ایسی جگہ پہنچے جہاں زمین پر گنے کے خشک پتے بکھرے ہوئے تھے جسے ’’چھوئی‘‘کہتے ہیں۔ تھریشر کے ذریعے گندم کے دانے