Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
55 - 107
گھاٹ ا تر گیااور یوں اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ!  ایک ولیٔ کامل کی دعا کی برکت سے لوگوں کو ایک ظالم وبد کار بادشاہ سے نجات مل گئی۔
 	پھر جب لوگوں نے حضرت سیدناشیخ ابو سعید قصاب علیہ رَحمۃُ اللہِ التَّوّاب سے پوچھا کہ بڑھیا کو قبرستان کیوں بھیجا گیا،پہلے ہی دعا کیوں نہ فرما دی گئی ؟تو ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میری بددعا سے کوئی ہلاک ہو، اس لئے میں نے اسے حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے پاس بھیجا تھا ۔ پھر انہوں نے اشارہ بھجوایا کہ ایسے بدکارو سَرکَش کے لئے بددعا کرنا جائز ہے، لہٰذا میں نے بد دعا کی تووہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔  (روض الریاحین،ص۲۶۶ ) 
بادشاھوں کی بکھری ہوئی ھڈّیاں 		کہہ رہی ہیں نہ بننا کبھی حکمراں
اِحتِساب اِسکا گزرے گا تم پر گِراں 		حشر میں جب کہ جاؤ گے مر کر میاں (وسائل بخشش ، ص۶۵۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بددعا نہ کرو
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرما یا : اپنی جانوں ، اپنی اولاد اور اپنے اَموال پر بددعا نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ قبولیت کی گھڑی ہو اور بَد دعا قبول ہوجائے۔(مسلم ، کتاب الزہد والرقائق ، باب حدیث جابر الطویل ، ص۱۶۰۴ ، حدیث : ۳۰۰۹)