Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
54 - 107
دل بیان کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی۔  اللہعَزَّوَجَلَّکے ولی نے دُکھیاری ماں کی فریاد سن کر اپنا سر جھکا لیا،پھر کچھ دیر بعد سر اُٹھا کر ارشاد فرمایا: محترمہ ! اس علاقے میں زندہ لوگوں میں کوئی ایسا شخص نہیں جومُسْتَجَابُ الدَّعْوَات ہو ( یعنیجس کی ہر دعا قبول ہوتی ہو) ہاں !فلاں قبرستان میں آپ کو اِس اِس طرح کا ایک شخص ملے گا ،وہ آپکی حاجت پوری کر سکتا ہے۔ بڑھیا قبرستان پہنچی تو وہاں ایک حسین و جمیل نو جوان نظر آیا جس کے نورانی وجود اور خوبصورت لباس سے نکلنے والی خوشبو نے سارے ماحول کو معطر کر رکھا تھا ۔ بڑھیا نے سلام کے بعد آنے کا مقصد بتایا۔ نوجوان نے بڑی توجہ سے ساری بات سنی پھر کہا :’’ دوبارہ حضرت ابو سعید قصابعلیہ رَحمۃُ اللہِ التَّوّاب کے پاس جا کر دعا کرائیے!ان کی دعا قبول ہوگی ۔‘‘ بڑھیا نے جھنجھلا کر کہا:’’ عجیب بات ہے میری مشکل کوئی حل نہیں کررہا، میں کہاں جاؤں ؟زندہ مجھے مُردوں کے پاس بھیجتا ہے اور مردہ زندہ کے پاس ۔ نوجوان نے کہا:’’وہاں جائیے! اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اب مسئلہ حل ہوجائے گا۔‘‘چنانچہ بڑھیا پھر حضرت سیدناشیخ ابو سعید قصاب علیہ رَحمۃُ اللہِ التَّوّاب کی خدمت میں حاضر ہو ئی۔ بڑھیاکی رُوداد سن کرآپ رَحمَۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے سر جھکا لیا ،کچھ ہی دیر میں آپ رَحمَۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے جسم سے پسینہ ٹپکنے لگا ، پھر ایک زور دار چیخ ماری اوربے ہوش ہوگئے ۔ اچانک پورے شہر میں شوربَرپا ہوا: ’’بادشاہ مرگیا، بادشاہ کی گردن ٹوٹ گئی۔‘‘ ہوا یوں کہ جب وہ بد بخت بادشاہ بڑھیا کی بیٹی کی طرف چلا تواچانک گھوڑے کو ٹھوکر لگی بادشاہ منہ کے بَل گرا اور فوراََ ہی موت کے