(26)اپنا بچہ سمجھ کر آپریشن کرنے کا صلہ
ایک خاتون کا بیان ہے کہ پاکستان کی ایک مشہور و معروف سرجن کا اکلوتا بیٹا جو مشکل سے چھ سال کا ہے میرے اسکول میں پڑھتا تھا، ایک صبح اچانک سر درد کی وجہ سے زور زور سے رونے لگا۔پتہ چلا کہ اسے بہت تیز بخار بھی ہے.میں نے بچے کی والدہ سے بذریعہ موبائل رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا ،ایک کے بعد ایک کال مگر بے فائدہ!دوسری طرف بچے کی حالت درد سے بگڑتی جارہی تھی۔ مجبوراًاپنی ذمہ داری پر ڈاکٹر کو بلوایا گیا،ڈاکٹر نے چیک کیا اور انجکشن لگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے سکون ملا تو وہ سو گیا۔میں بار بار اسکی والدہ کے نمبر پر رابطے کی کوشش کرتی رہی مگر کوئی جواب نہ آیا۔انکے اسپتال فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ آپریشن میں مصروف ہیں۔ میں نے انکے نمبر پر ایک میسج بھیج دیا تاکہ وہ آپریشن سے فارغ ہوکر اسے لے جائیں۔ وہ بچہ میری گود میں سویا رہا۔جب اسکی والدہ آئیں ان کا چہرہ تھکاوٹ سے زرد اور آنکھیں سرخ سوجی ہوئی تھی۔اپنے بچے کو سکون سے سوتا دیکھ کر میرے پاس بیٹھ گئیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی گھنٹے سے وہ ایک بچے کا آپریشن کر رہی تھیں جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے ،اس دوران انہیں اپنے بچے کا خیال بھی آتا رہا کہ انکا اپنا بھی اکلوتا بچہ ہے۔اسی لئے انہوں نے اسے اپنا بچہ سمجھ کر بڑی توجہ سے اسکا کامیاب آپریشن کیا۔اسکے والدین بہت خوش ہیں۔جب مجھے آپکا میسج ملا تو میری آنکھیں بھر آئی تھیں کہ میں کسی کے بچے کو اپنا سمجھ کر اسے بچانے کے لئے اتنی کوشش کرتی رہی مگر