یہی لغزش مجھ سے واقع ہوئی ہے ۔بیوی بولی : اب معلوم ہوا کہ تمہارے ماشکی نے آج میرا ہاتھ کیوں پکڑ کر کھینچا تھا !سنار نے سارا واقعہ سنا تو کہنے لگا کہ میں اپنی غلطی سے توبہ کرتا ہوں ، خدا مجھے معاف فرمائے ۔دوسرے روز ماشکی پانی بھرنے آیا تو اس نے بھی اپنے کئے کی معافی مانگی۔(روح البیان،۴/۱۵۰ )
شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر ہیں پھینکتے
دیوارِ آہنی پر، حماقت تو دیکھئے
کیا آپ کو یہ گوارا ہوگا؟
دوسروں کی عزت کی طرف گندی اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے والوں کے لئے اس واقعے میں درسِ عبرت ہے بدکاری کی لذتِ بَد کے شوقین لمحہ بھر کے لئے سوچیں کہ اگر یہی کام کوئی میری بہن یابیٹی یابہویا بیوی کے ساتھ کرے تو کیا مجھے گوارا ہوگا؟ یقینا نہیں ! تو پھر کوئی دوسرا یہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ آپ اس کی بہن یابیٹی یابہویا بیوی کے ساتھ اس طرح کا فعل کریں ،شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر برسانے والے کو یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی اس کے گھر پر بھی پتھر برسا سکتا ہے ۔فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:عِفُّوْا تَعِفَّ نِسَاؤُکُم وَ بِرُّوْا آبَاءَ کُمْ یَبَرُّکُمْ اَبْنَاؤُکُم. یعنی پاکدامنی اختیار کرو،تمہاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی اور اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہاری اولاد تم سے اچھا سلوک کرے گی۔(معجم اوسط، ۴/۳۷۶، حدیث:۶۲۹۵)