برسات ہوگئی کہ عیب نکالنے والی کوئی اور نہیں اس کی سگی بہن تھی ، بہرحال طعنہ دینے والی رشتہ توڑ کر جاچکی تھی ۔دوسری طرف جب وہ گھر پہنچی تو اسے خیال آیا کہ لوہے کے پائپ نیچے صحن میں رکھے ہوئے ہیں انہیں چھت پر منتقل کر دیتی ہوں ،اس نے اپنے بیٹے کو بھی اس کام میں شامل کرلیا ۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اچانک لوہے کا پائپ اس کے ہاتھ سے چھوٹا اور سیدھا بیٹے کی آنکھ پر جالگا اس کی آنکھ پپوٹے سمیت باہر نکل پڑی ، اس کے دل پر قیامت گزر گئی اور اس کے ذہن میں اپنی سگی بہن کو کہے گئے الفاظ گونجنے لگے کہ میں اپنے صحیح سلامت بیٹے کی شادی تمہاری اندھی لڑکی سے نہیں کرسکتی ،اب اسے اپنے انداز پر ندامت ہونے لگی لیکن اب کیا فائدہ! بیٹے کی آنکھ تو جاچکی تھی ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(25)تم نے اس کا ہاتھ پکڑا تو کسی نے میرا ہاتھ پکڑلیا
کسی شہر میں ایک پانی بھرنے والا ماشکی رہتا تھا جو ایک سُنار کے گھر پانی بھرا کرتا تھا ۔ اسے پانی بھرتے ہوئے تیس سال کا عرصہ ہوگیا تھا ۔ اس سنار کی زوجہ نیک اور پارسا خاتون تھی ۔ایک روز وہ ماشکی پانی بھرنے آیا تو اس نے سنار کی بیوی کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنی طرف کھینچا ۔عورت نے بمشکل ہاتھ چھڑایا اور دروازہ بند کرلیا ۔ تھوڑی دیر بعد سنار گھر آیا تو اس کی بیوی نے پوچھا: آج دکان پر کونسا کام خدا کی نافرمانی کا کیا ہے ؟سنار بولا کہ آج ایک عورت کے ہاتھ میں کنگن پہناتے ہوئے مجھے اس کا بازو بہت خوبصورت نظر آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا ، بس