لیا گیا اور غالباً اسی کے ذریعے اس دردناک قصے کا انکشاف ہوا ۔ (الامان والحفیظ )(’’زلزلہ اور اس کے اسباب‘‘، ص۵۱)؎
زمیں بوجھ سے میرے پھٹتی نہیں ہے
یہ تیرا ہی تو ہے کرم یاالٰہی(وسائل بخشش،ص۱۱۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اللہ چاہے تو بیٹا دے یا بیٹی یا کچھ نہ دے
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’زندہ بیٹی کنویں میں ڈال دی‘‘ کے صفحہ 5پر لکھتے ہیں : اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسلام نے بیٹی کو عَظَمت بخشی اور اس کا وقار بُلند کیا ہے، مسلمان اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا عاجز بندہ اور اس کے احکام کا پابند ہوتا ہے ، بیٹا ملے یا بیٹی یا بے اولاد رہے ہر حال میں اِسے راضی بَرِضا رہنا چاہئے ۔پارہ25 سُوْرَۃُ الشُّوْرٰیکی آیت:49اور 50میں ارشاد ہوتا ہے :
لِلہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنٰثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾ اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّ اِنٰثًا ۚ وَ یَجْعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾
ترجَمۂ کنزالایمان: اَللّٰہہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، پیدا کرتا ہے جو چاہے ،جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے۔