ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ تو اُس نے جواب دیا :’’میں نے ایسی جگہ بلندی چاہی جہاں لوگ عاجِزی کرتے ہیں تو اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے ایسی جگہ رُسوا کر دیا جہاں لوگ رِفعت (یعنی بلندی) پاتے ہیں۔‘‘(الزواجر،۱/ ۱۶۴)
ہر اسلامی بھائی کو چاہئے کہ اپنا ذہن بنائیں کہ فانی پر فخر نادانی ہے ، عزّت ومَنصَب کب تک ساتھ دیں گے ،جس مَنصَب کے بَل بوتے پرآج اکڑتے ہیں کل کلاں کوچِھن گیا توشاید انہی لوگوں سے مُنہ چُھپانا پڑے جن سے آج تحقیر آمیز سُلوک کرتے ہیں ،آج جن پر حکم چلاتے ہیں کل عہدہ جانے کے بعد اپنا کام کروانے کے لئے انہی سے منتیں کرنا پڑیں گی! الغرض فانی چیزوں پر غروروتکبر کیونکرکیا جائے!اِس لئے کیسا ہی بڑامَنصَب یا عہدہ مل جائے اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :آدمی کو اپنی حالت کا لحاظ ضرو ر ہے نہ کہ اپنے کو بھولے یاستایشِ مردم (یعنی آدمیوں کے تعریف کرنے)پر پھولے۔ (ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت، ص۶۶)؎
رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب
تو پیارے قیدِ خُودی سے رَہِیدہ ہونا تھا(حدائق بخشش،ص۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(22) قتل کی کوشش کرنے والے کے اپنے دو بیٹے مرگئے
ایک حکمران نے حضرتِ سیِّدُنا محمد شمس الدّین حَنَفی مصری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ